Muhammad Bin Qasim Ne Sindh Ko Kaisay Fatah Kya
یہ کہانی ہے ایک نوجوان بہادر سپہ سالار محمد بن قاسم ؒ ک ہے جو کہ سنہ ۷۶ ہجری کو طائف میں پیدا ہوے، جنہوں نے سترہ سال کی عمر میں سنہ ۹۳ ہجری (712 عیسوی) میں سندھ میں راجہ داہر کو شکست دے کر فتح کیا اور اپنی بہادری کے جوہر دکھائے اور یہی وجہ برصغیر میں اسلام کے آنے کی وجہ بنی اور اس کامیاب معرکے کے بعد پورے برصغیر میں اسلام کا پھیلاو شروع ہوا اور اس برصغیر کی تاریخ کا رُخ بدل گیا جو کہ ہندوں کے قبضے میں تھا۔
آٹھویں صدی عیسوی میں، بنوامیہ کی خلافت اپنی عروج پر تھی ااور خلیفہ ولید بن عبد الملک کے دور میں اسلامی سلطنت تیزی سے پھیل رہی تھی۔
(یاقوت) سری لنکا سے آنے والے ایک کشتی، جس میں بے سہارا عورتیں سوار تھیں، جب یہ کشتی بصرہ کی طرف رواں دواں تھی تو پھر یوں ہوا کہ سندھ کے ساحل پر ڈاکووں نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ یہ کشتی سری لنکا کے بادشاہ نے بیجھی تھی تاکہ ان عورتوں کو حجاج، جو کہ عراق کا حاکم تھا، کی نگرانی میں رہیں۔ ڈاکووں نے سامان کو لوٹنا اور ان عورتوں کو پکڑنا شروع کر دیا۔ ان عورتوں نے مدد کے لیے فریاد لگائی جس میں ایک عورت کی آواز اے حجاج! بھی تھی جس کی گونج سُمندری لہروں اور ہواوں کے ذریعے کسی بھی طرح حجاج بن یوسف تک بھی پہنچ گی جس پر اس نے لَبیک کہا۔ تو اس نے سندھ کے راجہ داہر سے انصاف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آپ کے علاقے (دیبل) دیول کے ڈاکووں نے ہماری ان بے سہارا عورتوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، ان کو حکم دیں کہ وہ انہیں چھوڑ دیں۔ جس کے جواب میں سندھ کے راجہ داہر نے حیل و بہانے کیے اور کہا کہ اس کی اس علاقہ میں حکومت نہیں ہے۔ لیکن بِالاخر اس کے انکار نے جنگ کا راستہ کھول دیا۔
پہلے حجاج بن یوسف نے ایک جنگی لشکر ابن نبہان کی کمانڈ میں بیھجا جس کو شکست ہوئی۔ دوسرا لشکر کمانڈو بدیل کی قیادت میں روانہ کیا اور اسے بھی سندھ کو فتح اور عورتوں کو رہا کروانے میں ناکامی ہوئی۔ ان دونوں چھوٹے جنگی لشکروں کی ناکامی کے بعد حجاج بن یوسف نے ایک بڑے لشکر کو سندھ میں چڑھائی کرنے پر مجبور کیا۔ ان مسلمانوں کے دو چھوٹے لشکروں کی شکست کے بعد بِالاخر محمد بن قاسم کو صرف 17 سال کی عمر میں ایک بڑی فوج کا سپہ سالار بنا کر سندھ روانہ کیا گیا جو بھرپور تیاری سے حملہ آوری کے لیے تیار تھے اور عورتوں کو نجات دلانے، مسلمانوں کے چھوٹے لشکروں کو شکست دینے کا بدلہ لینے اور سندھ کو فتح کرنے کا عزم کیے ہوئے تھے۔ محمد بن قاسم نے زمانے کے حساب سے ساتھ جدید جنگی ہتھیار، منجنیقیں، اور ایک مضبوط حکمت عملی اپنائی۔ حجاج بن یوسف نے بھی قافلے کی خوب مدد کی۔
محمد بن قاسم اپنے قافلے کے ہمراہ مکران کی طرف چلے تاکہ قند پور اور ارمائیل کو فتح کیا جائے جو دیبل شہر کی راہ میں تھے تاکہ دیبل شہر کا محاصرہ اچھے طریقے سے ہو سکے۔ ان دونوں شہروں کو فتح کرنے کے بعد جنگی لشکر دیبل پر چڑھائی کرنے کے لیے تیار تھا۔ یہ جمعہ کا دن تھا جب اسلامی لشکر دیبل میں داخل ہوئے۔ اُسی روز ایک بحری بیرہ وہاں اچانک پہنچا جس پر مسلمان فوج کا ان سے آمنا سامنا ہوا۔ محمد بن قاسم نے خندق کھدوائی۔ انہوں نے بھاری بھر کم منجنیق، جس کا نام عروس تھا اور جس کی موٹاءی اتنی تھی کہ پانچ سو سپاہیوں کو مل کر اِسے گھمانا پڑتا تھا اور پھر اس سے فائر ہوتا تھا، نصب کی۔ اس منجینیق سے دیبل شہر کے مشہور مندر (بودھ) صنم کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ مندر پہاڑوں کی طرح بلند تھا اور اس میں ایک سرخ رنگ کی ایک بڑی چادر تھی جو ہوا سے لہراتی تھی۔ جب اِس پر ٹھیک نشانے پر فاءر کیا گیا تو اس میں شگاف (سوراخ) پڑ گیا۔ اس سے اہل سندھ و ہند کے لڑاکوں کے حوصلے پست ہو گے۔ محمد بن قاسم نے اپنے سپاہیوں کے ذریعے اس پورے مندر صنم کا محاصرہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے مندر کے علمبرداوں کی زندگی اجیرن ہوگی۔ پھر اسلامی لشکر نے بڑے پتھر سے اس مندر کے مجسمہ پر حملہ کیا جس کی وجہ سے وہ ٹوٹ گیا اور بڑی منجنیق (عروس) پر آ گرا۔ بالاخر اسلامی لشکر نے دیبل شہر کو فتح کر لیا۔ فتح کے بعد محمد بن قاسم نے ان عورتوں کو آزادی دلواءی جن کو ڈاکووں نے یرغمال بنایا ہوا تھا اور امیر عراق (حجاج بن یوسف) تک نہیں پہنچنے دیا تھا۔ دیبل میں مسجد بھی تعمیر کرواءی۔
دیبل کے بعد، محمد بن قاسم نے ایک ایک کر کے کئی شہر فتح کیے جن میں سربیدس، سبہان قابلِ ذکر ہیں۔ اس کی اسلامی فوج نظم و ضبط اور حکمت عملی میں بے مثال تھی۔ سندھی بادشاہ (راجہ داہر) کے گورنر مختلف صوبوں میں ایک ایک کر کے شکست کھاتے گے جس کا علم اس بادشاہ کو نہ تھا کیونکہ وہ مال و دولت اور کنیزوں میں مشغول تھا۔ جب محمد بن قاسم نے دریا مہران عبور کیا تو پھر ان کا اسے راجہ داہر سے سامنا ہوا جو موٹے تازے ہاتھی پر سوار تھا۔ ایک طرف اسلامی لشکر جو گھوڑوں پر سوار تھا اور دوسری تھا راجہ داہر کا لشکر جو ہاتھیوں میں تھا۔ ان کی آپس میں شدید جنگ ہوئی جس میں راجہ داہر کو شکست ہوئی وہ ہاتھی سے اتر کر پیدل چلنے لگا لیکن پھر تھک ہار کر زمین پر گر پڑا اور آخرکار اس کا قتل محمد بن قاسم کے ہاتھوں ہوا۔
محمد بن قاسم نے پھر برہمن شہر کو بھی فتح کیا جو سندھ کا ایک قدیم شہر ہے۔ بالاخر محمد بن قاسم نے سندھ کو مکمل طور پر فتح کر لیا اور وہ سنہ ۸۹ ہجری کو سندھ کے امیر منتخب ہوئے۔ انہوں نے اچھی اسلامی حکومت کی۔ لوگوں کو انصاف دیا۔ ہندوؤں اور بدھ مت کے ماننے والوں اور دوسرے اقلیتوں سے رواداری کا سلوک کیا اور ان کو مذہبی آزادی دی گئی۔
محمد بن قاسم کو سازش کے تحت صرف تقریباً ۲۰ سال کی عمر میں سزائے موت دلوائی گی جس سے اسلام اور مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچا۔ محمد بن قاسم کی سندھ میں فتح سے اسلام برصغیر میں آیا اور ایک اسلامی تہذیب وجود میں آئی۔ آج بھی محمد بن قاسم کی داستان تاریخ کے صفحات میں زندہ ہے۔


Comments
Post a Comment