Girl Proposed And Hugged Boy In University of Lahore (Urdu)
یونیورسٹی آف لاہور میں لڑکی نے لڑکے کو پروپوز کیا اور گلے مل گئی | اسلام میں نکاح سے پہلے محبت، پروپوز اور غیر محرم سے تعلق کا حکم
یونیورسٹی آف لاہور کا وائرل واقعہ
یونیورسٹی آف لاہور (UOL) سے متعلق ایک واقعہ سوشل میڈیا پر خاصا زیرِ بحث آیا، جس میں ایک طالبہ نے ایک طالب علم کو سب کے سامنے پروپوز کیا، گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنی پسند کا اظہار کیا اور بعد ازاں دونوں ایک دوسرے سے گلے ملے۔ موقع پر موجود بعض افراد اس واقعے کی ویڈیو بھی بنا رہے تھے۔ رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے اس واقعے کے بعد دونوں طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کی۔
اس واقعے کے بعد یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ:
اسلام میں کسی لڑکی یا لڑکے کا کسی کو پسند کرنا، شادی کے لیے پروپوز کرنا، نکاح سے پہلے محبت کا اظہار کرنا اور غیر محرم کو گلے لگانا کس حد تک جائز یا ناجائز ہے؟
اس مسئلے کو صرف جذبات، غصے یا سوشل میڈیا کے ردِعمل سے نہیں بلکہ قرآن، مستند احادیث، شرعی اصول، علماء کی تشریح اور عملی اسلامی سوچ کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔
کیا کسی لڑکی کا لڑکے کو شادی کے لیے پروپوز کرنا حرام ہے؟
سب سے پہلے ایک اہم بات واضح کرنا ضروری ہے:
صرف کسی مناسب خاندانی شخص کو نکاح کی نیت سے پسند کرنا یا شادی کی خواہش کا اظہار کرنا بذاتِ خود حرام نہیں ہے۔
اسلام انسانی فطرت اور جذبات کو تسلیم کرتا ہے۔ کسی لڑکی کو کسی لڑکے کی دینداری، اخلاق، ذمہ داری یا شخصیت پسند آ سکتی ہے اور کسی لڑکے کو کسی لڑکی کی دینداری اور اخلاق پسند آ سکتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اس پسند کے بعد طریقہ کیا اختیار کیا جاتا ہے؟
اگر مقصد حقیقی طور پر نکاح ہو تو بہتر راستہ یہ ہے کہ:
پسند → خاندان کو اطلاع → مناسب تحقیق → شرعی حدود کی پابندی → رضامندی → نکاح
ہو۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ “لڑکی کا پروپوز کرنا ہی حرام ہے”۔
البتہ اگر پروپوز کرنے کا انداز غیر شرعی رومانوی تعلق، جسمانی قربت یا دیگر ناجائز کاموں پر مشتمل ہو تو ان اعمال کا حکم الگ ہوگا۔
غیر محرم کو گلے لگانے کا اسلامی حکم
نکاح سے پہلے مرد اور عورت ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہوتے ہیں۔
اس لیے اگر کوئی لڑکا اور لڑکی آپس میں شادی شدہ نہیں ہیں تو محض یہ سوچ لینا کہ:
“ہم مستقبل میں شادی کریں گے”
ان دونوں کو نکاح سے پہلے میاں بیوی نہیں بنا دیتا۔
چنانچہ غیر محرم لڑکے اور لڑکی کے درمیان رومانوی انداز میں گلے ملنا اسلامی حیا اور شرعی حدود کے مطابق نہیں۔
یہ بات خاص طور پر نوجوانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ:
منگنی نکاح نہیں ہوتی، محبت نکاح نہیں ہوتی، وعدہ نکاح نہیں ہوتا، اور شادی کا ارادہ نکاح نہیں ہوتا۔
جب تک باقاعدہ نکاح نہ ہو، شرعی حدود اپنی جگہ قائم رہتی ہیں۔
قرآن پاک کی واضح ہدایت: زنا کے قریب بھی نہ جاؤ
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا
“اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک یہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔”
سورۃ الإسراء، 17:32
اس آیت میں صرف زنا سے منع نہیں کیا گیا بلکہ زنا کے قریب جانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
یہ ایک اہم اسلامی اصول ہے کہ مسلمان کو صرف آخری بڑے گناہ سے نہیں بلکہ ان راستوں سے بھی بچنا چاہیے جو انسان کو گناہ کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
اسی لیے اسلام حیا، پاکیزگی، نگاہوں کی حفاظت اور غیر محرم کے ساتھ حدود کی پابندی کی تعلیم دیتا ہے۔
کیا اسلام میں محبت ہی حرام ہے؟
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ محض دل میں کسی کے لیے پسند یا محبت کا پیدا ہونا انسان کے مکمل اختیار میں نہیں ہوتا۔
اصل ذمہ داری انسان کے اختیاری اعمال پر ہوتی ہے۔
ایک شخص کسی کو پسند کر سکتا ہے، لیکن اسے اپنے جذبات کو کس راستے پر لے جانا ہے، یہ اس کے اختیار میں ہے۔
اگر محبت حقیقی ہے تو اسے ناجائز تعلق بنانے کے بجائے نکاح کی طرف لے جانا چاہیے۔
یعنی:
محبت کو گناہ کا راستہ نہ بنائیں، بلکہ اسے نکاح کا ذریعہ بنائیں۔
نگاہوں کی حفاظت بھی اسلامی حیا کا حصہ ہے
اللہ تعالیٰ مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔”
سورۃ النور: 30
اور اس کے بعد مومن عورتوں کو بھی نگاہوں کی حفاظت اور پاکدامنی کی ہدایت دی گئی ہے۔
سورۃ النور: 31
یہ احکامات صرف ایک خاص عمر کے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ مسلمان معاشرے میں پاکیزہ تعلقات کے عمومی اصول فراہم کرتے ہیں۔
کیا لڑکی نکاح کے لیے اپنی پسند ظاہر کر سکتی ہے؟
جی ہاں، نکاح کی سنجیدہ نیت سے اپنی پسند ظاہر کرنا بذاتِ خود ممنوع نہیں۔
اسلامی تاریخ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ عورت نے نکاح کے معاملے میں اپنی خواہش کا اظہار کیا۔
لہٰذا یہ کہنا کہ:
“عورت کا نکاح کی پیشکش کرنا ہی غیر اسلامی ہے”
درست نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کل بعض اوقات نکاح کی سنجیدہ پیشکش اور رومانوی تعلق کو ایک ہی چیز سمجھ لیا جاتا ہے۔
دونوں میں واضح فرق ہے۔
اگر لڑکی کسی لڑکے کو پسند کرتی ہے تو کیا کرے؟
اگر کسی لڑکی کو کوئی لڑکا پسند ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ وہ شادی کے لیے موزوں ہے تو اسے چھپ چھپ کر بوائے فرینڈ کے ساتھ تعلق رکھنے کے بجائے مناسب طریقے سے اپنے گھر والوں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
مثلاً وہ اپنی والدہ، والد، بھائی، بہن یا کسی قابلِ اعتماد بزرگ سے کہہ سکتی ہے:
“مجھے یہ شخص نکاح کے لیے مناسب لگتا ہے، آپ اس کے بارے میں تحقیق کر لیں۔”
اس کے بعد خاندان کو جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں تحقیق کرنی چاہیے۔
دیکھا جائے:
لڑکے کا دین کیسا ہے؟
اخلاق کیسے ہیں؟
والدین اور بڑوں کے ساتھ رویہ کیسا ہے؟
تعلیم اور مستقبل کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہے؟
ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں؟
نشہ تو نہیں کرتا؟
جھوٹ، دھوکہ دہی یا بدکرداری کی شہرت تو نہیں؟
غصے اور رویے پر قابو رکھتا ہے یا نہیں؟
روزگار یا مستقبل کا مناسب منصوبہ ہے یا نہیں؟
دونوں خاندانوں کے حالات اور ضروریات قابلِ موافقت ہیں یا نہیں؟
کیا دونوں واقعی نکاح کے لیے سنجیدہ ہیں؟
والدین کو اولاد کی پسند کو فوراً مسترد نہیں کرنا چاہیے
بعض اوقات والدین بچوں کی شادی کے معاملے میں صرف اپنی مرضی کو اہمیت دیتے ہیں۔
یہ رویہ مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
اگر بیٹا یا بیٹی کسی شخص کو نکاح کے لیے پسند کرتا یا کرتی ہے تو والدین کو فوراً یہ نہیں کہنا چاہیے:
“ہم تمہاری شادی اپنی مرضی سے کریں گے، تمہیں کچھ کہنے کا حق نہیں۔”
بلکہ پہلے تحقیق کرنی چاہیے۔
اگر لڑکا یا لڑکی واقعی مناسب، ذمہ دار، بااخلاق اور نکاح کے لیے سنجیدہ ہے تو والدین کو معاملے پر غور کرنا چاہیے۔
لیکن اس کے برعکس صرف پسند آ جانے کی وجہ سے ہر رشتے کو فوراً منظور کر دینا بھی درست نہیں۔
اسلام جذبات کے ساتھ تحقیق اور عقل کو بھی اہمیت دیتا ہے۔
اسلام میں لڑکی کی رضامندی کی اہمیت
نکاح ایک بہت بڑا زندگی بھر کا فیصلہ ہے، اس لیے لڑکی کی رضامندی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیوہ/ثیبہ سے اس کی اجازت لی جائے اور کنواری سے بھی اس کی اجازت لی جائے۔ یہ روایت سنن ابی داؤد 2092 میں موجود ہے اور اسے صحیح قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک لڑکی نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے والد نے اس کی مرضی کے خلاف اس کا نکاح کر دیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے اسے اختیار دیا۔ سنن ابی داؤد 2096۔
اس سے ایک اہم اصول سامنے آتا ہے:
والدین کو اولاد کے لیے مناسب شریکِ حیات تلاش کرنے میں رہنمائی کرنی چاہیے، لیکن زبردستی اور اولاد کی رضامندی کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا اسلامی خاندانی حکمت کا درست طریقہ نہیں۔
والدین کے لیے اہم اسلامی مشورہ
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹے یا بیٹی کے لیے نکاح کے معاملے میں صرف دولت، خاندان، ذات، برادری یا ظاہری شکل کو معیار نہ بنائیں۔
بلکہ زیادہ اہم چیزیں دیکھیں:
1. دین
کیا وہ اللہ سے ڈرنے والا اور فرائض کا پابند ہے؟
2. اخلاق
کیا وہ نرم مزاج، سچا اور قابلِ اعتماد ہے؟
3. ذمہ داری
کیا وہ اپنے مستقبل اور خاندان کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے سنجیدہ ہے؟
4. تعلیم اور روزگار
کیا وہ اپنی تعلیم یا پیشہ کے بارے میں سنجیدہ اور محنتی ہے؟
5. بری عادات
کیا وہ منشیات، نشہ، بدکاری یا دیگر تباہ کن عادات سے محفوظ ہے؟
6. خاندان
کیا دونوں خاندانوں کے حالات اور توقعات مناسب طور پر قابلِ موافقت ہیں؟
7. باہمی رضامندی
کیا لڑکا اور لڑکی دونوں دل سے اس نکاح پر راضی ہیں؟
صرف پسند کافی نہیں، کردار بھی دیکھیں
کسی کو پسند کرنا شادی کے لیے واحد معیار نہیں ہونا چاہیے۔
یونیورسٹی میں اچھے نمبر لینا یقیناً مثبت بات ہو سکتی ہے، لیکن صرف اچھے نمبر کسی انسان کے اچھے شوہر یا اچھی بیوی ہونے کی ضمانت نہیں۔
اسی طرح خوبصورتی، سوشل میڈیا پر مقبولیت، مہنگی گاڑی یا اچھا لباس بھی کافی معیار نہیں۔
والدین کو دیکھنا چاہیے کہ انسان حقیقت میں کیسا ہے۔
کردار، دیانت، ذمہ داری، دین، اخلاق اور باہمی مطابقت کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔
“بوائے فرینڈ” اور “شریکِ حیات” میں فرق
اسلامی نقطۂ نظر سے نوجوانوں کو یہ فرق سمجھنا چاہیے:
بوائے فرینڈ/گرل فرینڈ کا تعلق ایک غیر نکاحی رومانوی تعلق ہوتا ہے جس میں شرعی حدود پامال ہوتی ہیں۔
جبکہ:
شوہر/بیوی کا تعلق باقاعدہ نکاح کے بعد قائم ہونے والا شرعی اور قانونی رشتہ ہے۔
اسی لیے اسلام محبت کے جذبات کو ختم کرنے کے بجائے انہیں حلال راستے میں لانے کی تعلیم دیتا ہے۔
کیا نکاح کے بعد محبت جائز ہے؟
جی ہاں۔
جب مرد اور عورت کا صحیح شرعی نکاح ہو جائے تو وہ ایک دوسرے کے لیے میاں بیوی بن جاتے ہیں۔
نکاح کے بعد محبت، انس، شفقت اور باہمی قربت جائز ازدواجی زندگی کا حصہ ہیں۔
لہٰذا نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہیے:
پسند آنا بری بات نہیں، پسند کو غلط راستے پر لے جانا مسئلہ ہے۔
اگر کسی کو واقعی کسی سے محبت ہے اور آپس میں لڑکے اور لڑکی کی کوئی بات چیت یا بدنظری نہیں ہے تو یہ گناہ کی بات نہیں ہے تو وہ اس محبت کو ذمہ دارانہ انداز میں نکاح تک لے جا سکتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی۔" حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 1847 (حدیث حسن)
نوجوانوں کے لیے عملی اسلامی طریقہ
اگر یونیورسٹی کا کوئی طالب علم یا طالبہ کسی کو پسند کرتا ہے تو یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے:
پہلا قدم: نیت درست کریں
خود سے پوچھیں:
کیا میں واقعی نکاح چاہتا/چاہتی ہوں یا صرف جذباتی تعلق؟
دوسرا قدم: ناجائز تعلق سے بچیں
غیر ضروری رومانوی چیٹنگ، تنہائی، جسمانی قربت اور ایسے رویوں سے بچیں جو شرعی حدود کو توڑتے ہیں۔
تیسرا قدم: والدین یا قابلِ اعتماد بزرگ کو بتائیں
اگر معاملہ سنجیدہ ہے تو اسے چھپانے کے بجائے مناسب شخص کو اعتماد میں لیں۔
چوتھا قدم: تحقیق کریں
صرف محبت کی بنیاد پر فیصلہ نہ کریں۔
پانچواں قدم: دونوں خاندانوں کو شامل کریں
نکاح ایک فرد نہیں بلکہ دو خاندانوں اور دو زندگیوں کو جوڑنے والا اہم فیصلہ ہے۔
چھٹا قدم: شرعی اور قانونی تقاضے پورے کریں
نکاح صرف جذباتی وعدہ نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔
ساتواں قدم: نکاح کریں
اگر مناسب رشتہ ہے، دونوں رضامند ہیں اور ضروری شرائط پوری ہوتی ہیں تو حلال راستہ اختیار کریں۔
والدین کے لیے ایک اہم پیغام
اگر والدین اپنے بچوں کے لیے حلال راستہ آسان بنائیں گے تو یہ بہت سے ناجائز تعلقات سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ:
بچوں سے شادی کے بارے میں بات کریں۔
ان کی پسند کو فوراً مذاق یا گناہ قرار نہ دیں۔
مناسب رشتے کی مکمل تحقیق کریں۔
دین اور اخلاق کو ترجیح دیں۔
غیر ضروری مہنگائی اور رسم و رواج کو شادی میں رکاوٹ نہ بنائیں۔
بیٹی یا بیٹے کو زبردستی نکاح پر مجبور نہ کریں۔
بچوں کو نکاح سے پہلے اسلامی حدود سمجھائیں۔
مناسب رشتہ ہو تو معاملے کو سنجیدگی سے آگے بڑھائیں۔
مشکل شرعی معاملات میں مستند اور بااعتماد مفتی یا عالم سے رہنمائی لیں۔
کیا والدین کو اپنی بیٹی کی پسند مان لینی چاہیے؟
والدین کو نہ تو ہر پسند کو فوراً مسترد کرنا چاہیے اور نہ ہی ہر پسند کو بغیر تحقیق کے قبول کرنا چاہیے۔
صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے:
پسند کو سنیں → تحقیق کریں → کردار دیکھیں → دین دیکھیں → ذمہ داری دیکھیں → دونوں کی رضامندی دیکھیں → خاندانوں سے مشورہ کریں → شرعی تقاضے پورے کریں۔
اگر لڑکا واقعی اچھا، ذمہ دار، بااخلاق اور نکاح کے لیے تیار ہے تو صرف اس وجہ سے رشتہ مسترد نہیں کرنا چاہیے کہ “ہم نے تمہارے لیے کوئی اور شخص پسند کر رکھا ہے۔”
اسی طرح اگر لڑکا بظاہر پسندیدہ ہے لیکن بدکردار، نشے کا عادی، غیر ذمہ دار یا دھوکے باز ہے تو صرف محبت کی وجہ سے نکاح کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو پھیلانے سے بھی بچیں
ایسے واقعات کی ویڈیوز کو بار بار شیئر کرکے لوگوں کی تذلیل کرنا بھی مسئلے کا حل نہیں۔
اگر مقصد اصلاح ہے تو اصلاحی بات کریں، نامناسب مناظر پھیلانے سے گریز کریں۔
اسلامی نصیحت کا مقصد صرف کسی کو شرمندہ کرنا نہیں بلکہ انسان کو گناہ سے بچانا، توبہ کی طرف لانا اور آئندہ بہتر زندگی اختیار کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
مفتی کی تشریح کے مطابق متوازن اسلامی سوچ
اس مسئلے کو چند واضح نکات میں سمجھیں:
اصل سبق کیا ہے؟
اس واقعے کا سب سے اہم سبق صرف یہ نہیں کہ:
“ایک لڑکی نے لڑکے کو پروپوز کیا۔”
بلکہ اصل سبق یہ ہے کہ نوجوانوں اور والدین دونوں کو محبت، نکاح اور شرعی حدود کے بارے میں صحیح اسلامی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ جذبات فطری ہو سکتے ہیں، لیکن ہر جذباتی عمل جائز نہیں ہوتا۔
اور والدین کو سمجھنا چاہیے کہ بچوں کی شادی کے معاملات میں صرف ڈانٹ ڈپٹ اور پابندی کافی نہیں۔ بات چیت، اعتماد، تربیت، تحقیق اور حلال راستے کو آسان بنانا بھی ضروری ہے۔
آخری پیغام
اگر ایک لڑکا اور لڑکی واقعی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور ان کا مقصد ایک ساتھ زندگی گزارنا ہے تو بہترین راستہ یہ نہیں کہ وہ چھپ کر یا عوامی طور پر رومانوی تعلق قائم کریں۔
بہترین راستہ یہ ہے کہ:
اپنی نیت درست کریں، غیر محرم کی حدود کا خیال رکھیں، والدین کو اعتماد میں لیں، ایک دوسرے کے دین و کردار کی تحقیق کریں، دونوں کی رضامندی حاصل کریں، شرعی تقاضے پورے کریں اور مناسب حالات میں نکاح کریں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک یہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔”
(سورۃ الإسراء: 32)
اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نکاح میں عورت کی رضامندی کو اہمیت حاصل ہے۔
لہٰذا اسلامی حل صرف “محبت چھوڑ دو” نہیں بلکہ:
“محبت کو حرام راستے سے بچاؤ اور اگر رشتہ مناسب ہو تو اسے حلال نکاح کے راستے پر لے جاؤ۔”
یہی نوجوانوں کے لیے زیادہ مثبت، عملی اور اصلاحی پیغام ہے۔


Comments
Post a Comment