Kya Roze Ki Halat Mein Toothbrush Aur Miswak Kar Sakte Hain | Ramzan Ke Masail
کیا روزے کی حالت میں ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ اور مسواک کر سکتے ہیں؟ | رمضان کے مسائل
کیا روزے کی حالت میں ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ اور مسواک کرنا جائز ہے؟ کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا ٹوتھ پیسٹ کی جھاگ حلق میں چلی جائے تو کیا حکم ہے؟ روزے میں مسواک کے بارے میں صحیح احادیث اور معتبر حنفی فقہی وضاحت کیا ہے؟
رمضان المبارک میں روزہ رکھنے والے افراد کے لیے دانتوں اور منہ کی صفائی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اسی سلسلے میں ایک عام سوال یہ ہے کہ کیا روزے کی حالت میں ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ یا مسواک کی جا سکتی ہے؟
اس مسئلے میں سب سے اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ مسواک اور ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ ایک ہی حکم نہیں رکھتے۔ مسواک کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے روزے کی حالت میں استعمال کرنا ثابت ہے، جبکہ ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کا کوئی مادہ حلق سے نیچے نہ جائے۔
مختصر جواب
روزے کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے بلکہ مسواک نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو روزے کی حالت میں کثرت سے مسواک کرتے دیکھا۔ صحیح بخاری
ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے سے محض برش کرنے کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن اس کے ذرات، جھاگ یا پانی کو جان بوجھ کر نگلنے سے بچنا ضروری ہے۔ اسی لیے روزے کے دوران اس کے استعمال میں خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔
زیادہ محتاط عملی طریقہ یہ ہے کہ دن کے وقت مسواک کی جائے اور ٹوتھ برش یا ٹوتھ پیسٹ سحری سے پہلے یا افطار کے بعد استعمال کیا جائے۔
کیا روزے کی حالت میں مسواک کر سکتے ہیں؟
جی ہاں، روزے کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے۔
یہ بات صرف فقہی رائے کی بنیاد پر نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کے عمل سے بھی ثابت ہے۔
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو روزے کی حالت میں اتنی کثرت سے مسواک کرتے دیکھا کہ وہ اس کی تعداد شمار نہیں کرسکتے تھے۔ صحیح بخاری
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ:
"روزے میں مسواک کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔"
بلکہ روزے میں مسواک کرنا جائز ہے۔
معتبر حنفی فتاویٰ میں بھی روزے کی حالت میں مسواک کے جواز کی وضاحت موجود ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ کے مطابق روزے میں مسواک کرنا جائز ہے۔
کیا روزے میں زوال کے بعد مسواک کر سکتے ہیں؟
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دوپہر کے بعد یا زوال کے بعد روزے دار کے لیے مسواک کرنا جائز نہیں۔
اس بارے میں فقہی کتب میں تفصیل ملتی ہے، لیکن روزے کے بعد از زوال مسواک سے ممانعت کے لیے پیش کی جانے والی بعض روایات کو محدثین نے قابلِ حجت صحیح سند والی روایت قرار نہیں دیا۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ زوال کے بعد مسواک کرنا حرام ہے۔
فقہ حنفی کے معتبر فتاویٰ میں روزے کی حالت میں مسواک کے جواز کی گنجائش موجود ہے۔
کیا روزے کی حالت میں ٹوتھ برش کر سکتے ہیں؟
جی ہاں، روزے کی حالت میں ٹوتھ برش استعمال کرنے سے صرف برش کرنے کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
لیکن روزہ دار کے لیے بنیادی احتیاط یہ ہے کہ ٹوتھ پیسٹ، اس کے ذرات، جھاگ یا پانی حلق سے نیچے نہ جائے وگرنہ روزہ ٹوٹ جائے گا اس لیے احتیاط کی جائے اور نہ کی جائے۔
ٹوتھ پیسٹ کی جھاگ اور ذائقہ منہ میں پھیل سکتا ہے، اس لیے عام دنوں کی نسبت روزے میں زیادہ احتیاط کرنا ضروری ہے۔
اگر ضرورت نہ ہو تو روزے کے دن میں ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے کے بجائے مسواک کرنا زیادہ آسان اور محتاط طریقہ ہوسکتا ہے۔
معتبر اہل علم نے بھی وضاحت کی ہے کہ روزے میں ٹوتھ پیسٹ استعمال کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ اسے نگلا نہ جائے۔
کیا ٹوتھ پیسٹ کی جھاگ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
صرف ٹوتھ پیسٹ کی جھاگ بننے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹوتھ پیسٹ یا اس کے کسی ذرے کو نگلا گیا یا نہیں۔
لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ:
"ٹوتھ پیسٹ کی جھاگ بن گئی تو روزہ ٹوٹ گیا۔"
ایسا نہیں ہے۔
البتہ اگر جھاگ یا ٹوتھ پیسٹ کا کوئی حصہ حلق میں جانے کا اندیشہ ہو تو اسے فوراً تھوک دینا چاہیے اور کلی کرتے وقت بھی احتیاط کرنی چاہیے۔
جان بوجھ کر کسی چیز کو نگلنا اور محض جھاگ کا منہ میں بن جانا دو الگ باتیں ہیں۔
روزے میں ٹوتھ برش استعمال کرنے کا زیادہ محتاط طریقہ
اگر کوئی شخص روزے میں دانت صاف کرنا چاہتا ہے تو درج ذیل احتیاط مفید ہے:
ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ کو سحری سے پہلے استعمال کرنا زیادہ آسان ہے۔
دن کے وقت ضرورت ہو تو مسواک استعمال کی جاسکتی ہے۔
اگر ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں تو اس کی مقدار کم رکھیں۔
جھاگ کو نگلنے سے مکمل طور پر بچیں۔
کلی کرتے وقت پانی حلق میں جانے نہ دیں۔
اگر ٹوتھ پیسٹ یا کوئی ذرات منہ میں رہ جائیں تو انہیں اچھی طرح تھوک دیں۔
صرف شک یا وسوسے کی وجہ سے یہ فیصلہ نہ کریں کہ روزہ ٹوٹ گیا ہے۔
کیا مسواک ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ سے بہتر ہے؟
روزے کے خاص مسئلے کے اعتبار سے مسواک کو ایک خصوصی فضیلت حاصل ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ سے روزے کی حالت میں اس کا استعمال ثابت ہے۔
نبی کریم ﷺ نے مسواک کی بہت ترغیب دی۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ صحیح بخاری 887
اس لیے رمضان المبارک میں مسواک کا استعمال سنت پر عمل کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔
خاص طور پر اگر کسی شخص کو دن میں ٹوتھ پیسٹ کی جھاگ یا اس کے حلق میں جانے کا خدشہ ہو تو مسواک ایک آسان اور محتاط متبادل ہے۔
اگر مسواک کا ریشہ حلق میں چلا جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
اس مسئلے میں ایک اہم تفصیل سمجھنا ضروری ہے۔
یہ بات مطلقاً کہنا درست نہیں کہ:
"مسواک کا کوئی بھی ریشہ حلق میں چلا جائے تو روزہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔"
اصل فرق جان بوجھ کر نگلنے اور غیر ارادی طور پر چلے جانے کے درمیان ہے۔
اگر کوئی شخص جان بوجھ کر مسواک کا کوئی حصہ نگلتا ہے تو اس کا حکم الگ ہوگا۔
لیکن اگر مسواک کے ذرات یا ڈنڈی غیر ارادی طور پر یا غلطی سے چلے جائیں تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔
حنفی فتاویٰ میں بھی اس مسئلے کی یہی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ دارالعلوم دیوبند
عملی احتیاط
مسواک کرتے وقت اس کے ریشے یا ذرات کو تھوک دیں اور جان بوجھ کر کوئی چیز نہ نگلیں۔
اگر کوئی مخصوص صورت پیش آجائے تو روزے کے بارے میں حتمی حکم لگانے کے بجائے کسی معتبر مفتی سے مسئلہ پوچھنا زیادہ بہتر ہے۔
روزے میں منہ کی بدبو کا کیا حکم ہے؟
روزے کی وجہ سے منہ میں پیدا ہونے والی مخصوص بو کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ صحیح بخاری
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام صفائی سے منع کرتا ہے۔
بلکہ مسواک کا استعمال خود نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔
لہٰذا روزہ دار کو چاہیے کہ:
صفائی بھی برقرار رکھے، سنت پر بھی عمل کرے اور روزے کی حفاظت بھی کرے۔
یہی متوازن اور عملی اسلامی سوچ ہے۔
قرآن مجید روزے کا اصل مقصد کیا بتاتا ہے؟
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔"
(سورۃ البقرۃ، 2:183)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کا اصل مقصد صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنا نہیں بلکہ تقویٰ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت، نفس پر قابو اور گناہوں سے بچنے کی تربیت حاصل کرنا ہے۔
اسی لیے رمضان کے مسائل سیکھتے وقت صرف یہ سوچنا کافی نہیں کہ:
"میرا روزہ ٹوٹا یا نہیں؟"
بلکہ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے:
"میں اپنا روزہ زیادہ احتیاط، تقویٰ اور سنت کے مطابق کیسے گزار سکتا ہوں؟"
مفتیانہ اور فقہی خلاصہ
معتبر حنفی فتاویٰ کی روشنی میں مسئلے کو آسان الفاظ میں یوں سمجھیں:
مسواک
روزے کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے۔
ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ
روزے میں ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے سے محض برش کرنے کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن اس کے کسی مادے، ذرے، جھاگ یا پانی کو حلق سے نیچے جانے سے بچانا ضروری ہے۔
مسواک کے ذرات
مسواک کے ذرات کو جان بوجھ کر نگلنا درست نہیں۔ غیر ارادی طور پر ذرات چلے جانے کی صورت میں فقہی تفصیل موجود ہے۔
زیادہ محتاط طریقہ
دن کے وقت مسواک اور سحری سے پہلے یا افطار کے بعد ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا ایک آسان اور محتاط عملی طریقہ ہے۔
رمضان میں دانت صاف رکھنے کا بہترین عملی معمول
اس طریقے سے صفائی بھی برقرار رہتی ہے اور روزے کے دوران غیر ضروری خطرے سے بھی بچا جاسکتا ہے۔
عام سوالات
کیا روزے میں مسواک کرنا سنت ہے؟
جی ہاں۔ مسواک نبی کریم ﷺ کی سنت ہے اور روزے کی حالت میں بھی اس کا استعمال احادیث سے ثابت ہے۔ صحیح بخاری
کیا روزے میں ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ کرسکتے ہیں؟
جی ہاں، لیکن اس کے کسی مادے کو نگلنے سے بچنا ضروری ہے۔ احتیاط کے لیے سحری سے پہلے یا افطار کے بعد ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا آسان طریقہ ہے۔
کیا ٹوتھ پیسٹ کی جھاگ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
صرف جھاگ بننے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹوتھ پیسٹ یا اس کے کسی ذرے کو نگلا گیا یا نہیں۔
کیا روزے میں زوال کے بعد مسواک کرسکتے ہیں؟
جی ہاں، روزے میں زوال کے بعد مسواک کرنے کی گنجائش ہے۔ اسے مطلقاً حرام قرار دینا درست نہیں۔
کیا مسواک سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
نہیں، عام طور پر مسواک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
اگر مسواک کا چھوٹا سا ریشہ غلطی سے حلق میں چلا جائے تو کیا ہوگا؟
اس مسئلے میں فقہی تفصیل ہے۔ جان بوجھ کر نگلنے اور غیر ارادی طور پر معمولی ذرات چلے جانے کا حکم ایک نہیں۔ مخصوص صورت میں معتبر مفتی سے براہِ راست مسئلہ پوچھنا بہتر ہے۔
آخری اور واضح جواب
روزے کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے اور نبی کریم ﷺ سے اس کا استعمال ثابت ہے۔
ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے سے محض دانت صاف کرنے کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن اس کے ذرات، جھاگ یا پانی کو حلق میں جانے سے بچانا ضروری ہے۔
اسی لیے دن کے وقت مسواک کرنا اور ٹوتھ برش/ٹوتھ پیسٹ سحری سے پہلے یا افطار کے بعد استعمال کرنا زیادہ محتاط اور عملی طریقہ ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ جان بوجھ کر کوئی چیز حلق سے نیچے نہ جانے دی جائے۔ صرف شک یا وسوسے کی بنیاد پر اپنے روزے کو ٹوٹا ہوا قرار نہیں دینا چاہیے۔
روزہ ہمیں صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنا نہیں سکھاتا بلکہ تقویٰ، ضبطِ نفس، احتیاط اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی سکھاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کے روزے صحیح طریقے سے رکھنے، سنت پر عمل کرنے، دین کے مسائل صحیح طور پر سمجھنے اور ہمارے روزوں و عبادات کو قبول فرمانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
اہم نوٹ
اسلامی فقہی مسائل میں بعض جزوی صورتوں کے احکام مختلف ہوسکتے ہیں۔ یہ مضمون خاص طور پر مذکورہ معتبر حنفی فقہی مصادر اور صحیح احادیث کی روشنی میں عام رہنمائی کے لیے ہے۔ کسی مخصوص صورت میں روزہ ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کا حتمی حکم معلوم کرنا ہو تو اپنے علاقے کے مستند مفتی یا دارالافتاء سے براہِ راست فتویٰ لینا زیادہ مناسب ہے۔


Comments
Post a Comment