Eid Ke Din Eidi Daina Kya Jaiz Hai?

Eid Aur Eidi

Eid Ke Din Bachon Ko Eidi Daina Kaisa Hai?

عید خوشی، محبت، شکر اور رشتہ داریوں کو مضبوط کرنے کا دن ہے۔ بہت سے مسلمان عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے موقع پر بچوں اور بعض اوقات قریبی رشتہ داروں کو عیدی (رقم یا تحفہ) دیتے ہیں۔ اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ:

  • کیا عیدی دینا جائز ہے؟

  • کیا اسلام میں عیدی کا حکم موجود ہے؟

  • کیا ہر شخص پر عیدی دینا ضروری ہے؟

  • اگر مالی استطاعت نہ ہو تو کیا کیا جائے؟

اس مضمون میں انہی سوالات کے جوابات قرآن و سنت اور اہلِ علم کی تشریحات کی روشنی میں پیش کیے جا رہے ہیں۔


کیا عید کے دن عیدی دینا جائز ہے؟

جی ہاں۔

عید الفطر والے دن بچوں اور رشتہ داروں کو عیدی دی جا سکتی ہے اپنی استطاعت / حیثیت کے مطابق۔

اگر بہت زیادہ رقم یا مہنگے تحفے دینا پڑ رہے ہوں، اور یہ آپ کی استطاعت سے زیادہ ہوں یا آپ پر مالی بوجھ بن رہے ہوں، تو ایسی رسم کو ترک کر دینا چاہیے۔ اسلام کسی مسلمان پر ایسی چیز لازم نہیں کرتا جو اس کی طاقت سے باہر ہو۔


قرآن مجید کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا

ترجمہ:
"اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں دیتا۔"

(سورۃ البقرہ 2:286)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مسلمان کو اپنی مالی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے، نہ کہ لوگوں کی دیکھا دیکھی خود کو مشکل میں ڈالنا چاہیے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ

ترجمہ:
"جس کے پاس وسعت ہو وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے۔"

(سورۃ الطلاق 65:7)

یہ اصول عیدی سمیت ہر جائز خرچ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔


احادیث کی روشنی میں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

تَهَادَوْا تَحَابُّوا

ترجمہ:
"آپس میں تحفے دیا کرو، اس سے محبت بڑھتی ہے۔"

(الادب المفرد للإمام البخاری، حدیث 594، حسن)

اگرچہ اس حدیث میں عیدی کا خاص ذکر نہیں، لیکن جائز موقع پر تحفہ دینا محبت بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسی اصول کے تحت بچوں کو خوش کرنے کے لیے عیدی یا چھوٹا سا تحفہ دینا جائز اور اچھا عمل ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی اسراف، دکھاوا یا ناجائز رسم شامل نہ ہو۔


کیا عیدی دینا فرض یا سنت ہے؟

نہیں۔

قرآن و حدیث میں ایسی کوئی صحیح دلیل موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ عید کے دن عیدی دینا فرض، واجب یا سنت مؤکدہ ہے۔

عیدی دینا ایک جائز سماجی روایت (Custom) ہے، جس کی اجازت اس وقت تک ہے جب تک وہ شریعت کے کسی حکم کے خلاف نہ جائے۔


مفتیانِ کرام کی تشریح

اہلِ علم کی وضاحت کے مطابق:

  • بچوں کو خوش کرنے کے لیے عیدی دینا جائز ہے۔

  • اگر نیت محبت، خوشی اور صلہ رحمی کی ہو تو یہ اچھا عمل ہے۔

  • عیدی کو دینی فریضہ یا لازمی رسم سمجھنا درست نہیں۔

  • اگر کوئی شخص مالی طور پر کمزور ہے تو اس پر عیدی دینا لازم نہیں۔

  • قرض لے کر یا دوسروں کی دیکھا دیکھی مہنگی عیدی دینا مناسب نہیں۔

  • اگر عیدی کی وجہ سے گھر کے ضروری اخراجات متاثر ہوں تو اس رسم کو ترک کرنا چاہیے۔

یہ رائے برصغیر کے متعدد معتبر مفتیانِ کرام اور فقہی اصولوں سے ہم آہنگ ہے کہ اصل معیار استطاعت اور اعتدال ہے۔


اگر استطاعت نہ ہو تو کیا کریں؟

بعض لوگ صرف معاشرتی دباؤ کی وجہ سے:

  • بڑی رقم تقسیم کرتے ہیں۔

  • مہنگے تحائف خریدتے ہیں۔

  • قرض لیتے ہیں۔

  • بچوں کے درمیان مقابلہ پیدا کرتے ہیں۔

اسلام اس طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔

اگر آپ کی مالی حالت اجازت نہیں دیتی تو:

  • عیدی نہ دینا گناہ نہیں۔

  • تھوڑی سی رقم بھی کافی ہے۔

  • ایک چھوٹا سا تحفہ بھی محبت کا اظہار بن سکتا ہے۔

  • صرف پیار، دعا اور خوش اخلاقی بھی عید کی خوشیوں کا حصہ ہیں۔


عیدی دیتے وقت چند اسلامی آداب

  • اپنی مالی حیثیت کے مطابق عیدی دیں۔

  • دکھاوے اور مقابلہ بازی سے بچیں۔

  • بچوں میں حسد پیدا نہ ہونے دیں۔

  • اگر ممکن ہو تو یتیم یا ضرورت مند بچوں کو بھی خوش کریں۔

  • عیدی کو محبت کا ذریعہ بنائیں، فخر کا نہیں۔

  • اپنی ضروریات اور اہلِ خانہ کے حقوق کو نظر انداز نہ کریں۔


خلاصہ

عید الفطر والے دن بچوں اور رشتہ داروں کو عیدی دی جا سکتی ہے۔ اپنی استطاعت اور حیثیت کے مطابق عیدی دینا ایک جائز اور اچھا عمل ہے، کیونکہ اس سے خوشی، محبت اور صلہ رحمی کو فروغ ملتا ہے۔

البتہ اگر بہت زیادہ رقم یا مہنگے تحفے دینا آپ کی مالی استطاعت سے باہر ہو، یا یہ آپ کے لیے بوجھ بن رہا ہو، تو ایسی رسم کو ترک کر دینا چاہیے۔ اسلام آسانی کا دین ہے اور کسی مسلمان کو اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں دیتا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اعتدال، اخلاص، صلہ رحمی اور عید کی حقیقی خوشیاں دوسروں میں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


Frequently Asked Questions (FAQs)

1. کیا عید کے دن عیدی دینا جائز ہے؟

جی ہاں، بچوں اور رشتہ داروں کو اپنی استطاعت کے مطابق عیدی دینا جائز ہے۔

2. کیا اسلام میں عیدی دینا فرض ہے؟

نہیں۔ عیدی دینا نہ فرض ہے، نہ واجب، اور نہ ہی ایسی سنت جسے ہر مسلمان پر لازم قرار دیا گیا ہو۔

3. اگر مالی استطاعت نہ ہو تو کیا عیدی نہ دینا گناہ ہے؟

ہرگز نہیں۔ اسلام کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا۔

4. کیا قرض لے کر عیدی دینی چاہیے؟

عام حالات میں صرف رسم نبھانے کے لیے قرض لے کر عیدی دینا مناسب نہیں۔

5. کیا بچوں کو تحفہ دینا بھی عیدی میں شامل ہو سکتا ہے؟

جی ہاں۔ رقم کے علاوہ کوئی مناسب اور جائز تحفہ بھی عیدی کے طور پر دیا جا سکتا ہے۔


Authentic References

  • Quran: Surah Al-Baqarah 2:286

  • Quran: Surah At-Talaq 65:7

  • Hadith: "Tahāddū Taḥābbū" (Exchange gifts and you will love one another.) — Al-Adab Al-Mufrad (Imam al-Bukhari), Hadith 594 (Hasan)

Scholarly Note: عیدی کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی خاص حکم موجود نہیں، تاہم بچوں کو خوش کرنے، رشتہ داری مضبوط کرنے اور جائز تحفہ دینے کی عمومی ترغیب کی بنیاد پر اہلِ علم نے اسے جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ اس میں اسراف، تکلف، دکھاوا یا مالی بوجھ شامل نہ ہو۔ یہ رائے جمہور اہلِ علم کے عمومی فقہی اصولوں کے مطابق ہے۔

Dailymotion Video - Eid Wale Din Eidi Bachon Aur Rishtedaro Ko Daina Kya Jaiz Hai | Ask Mufti Tariq Masood Sahab | Aap Ke Masail Ka Hal |  آسک مفتی طارق مسحود صاحب | آپکے مسائل کا حل | سوال و جواب سیشن

YouTube Video

Comments

Popular posts from this blog

Periods / Haiz Ke Kitne Din Baad Humbistari Karna Chahiye - Haiz Ke Masail In Islam In Urdu

Roze Mein Namak Chakhna Kaisa Hai | Kya Namak Chakhnay Se Roza Toot Jata Hai

(Nikah) Shadi Ki Pehli Raat Ki (Islamic) Dua In Arabic With Urdu And English Translation (Tarjuma)

Contact Us

Name

Email *

Message *

Copyright © 2026 IlamOne TV All Rights Reserved.