Na Mehram Se Chat Karna Messaages Karna Aur Comments Karna In Islam In Urdu

Na Mehram Se Chat Karna

نا محرم سے Chatting، Messages اور Comments کرنا کیسا ہے؟ | اسلام میں غیر محرم سے بات چیت کا حکم

آج کے دور میں Facebook، WhatsApp، Instagram، TikTok اور دوسری سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے لڑکے اور لڑکیوں کا ایک دوسرے سے رابطہ کرنا بہت عام ہو گیا ہے۔ کسی پوسٹ پر Comment کرنا، Inbox میں Message کرنا، مسلسل Chatting کرنا یا ایک دوسرے سے Friendship قائم کرنا بظاہر معمولی بات محسوس ہو سکتی ہے، لیکن مسلمان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اسلام اس رابطے کے بارے میں کیا رہنمائی دیتا ہے؟

اس مسئلے میں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے: ہر گفتگو بذاتِ خود حرام نہیں ہوتی، اور ہر غیر محرم سے ہر قسم کی بات چیت کو ایک ہی حکم نہیں دیا جا سکتا۔ ضرورت، مقصد، اندازِ گفتگو، الفاظ، حالات اور اس بات کا امکان کہ گفتگو فتنہ یا گناہ کا ذریعہ بن رہی ہے یا نہیں—یہ سب امور اہم ہیں۔

اس لیے صحیح اور متوازن اصول یہ ہے کہ غیر محرم سے ضرورت کے تحت، باوقار اور شرعی حدود کے اندر گفتگو کی گنجائش ہے، لیکن بلا ضرورت دوستی، دل لگی، Love Affair، Time Pass، مسلسل نجی Chatting اور ایسا رابطہ جو جذباتی یا شہوانی تعلق کی طرف لے جائے، اس سے بچنا لازم ہے۔

نا محرم اور محرم میں کیا فرق ہے؟

محرم وہ شخص ہے جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے، جیسے عورت کے لیے اس کا باپ، بھائی، بیٹا اور بعض دوسرے رشتہ دار۔

اس کے مقابلے میں نا محرم یا غیر محرم وہ شخص ہے جس سے شرعی طور پر نکاح ممکن ہو سکتا ہے، اگرچہ اس وقت نکاح نہ ہوا ہو۔

اس لیے صرف یہ بات کہ کوئی شخص کزن، یونیورسٹی کا ساتھی، دفتر کا ساتھی، پڑوسی یا دوست ہے، اسے محرم نہیں بنا دیتی۔ بہت سے رشتہ دار بھی شرعی اعتبار سے غیر محرم ہوتے ہیں۔

کیا نا محرم سے Chat کرنا حرام ہے؟

اس سوال کا جواب صرف "ہاں" یا "نہیں" میں دینا درست نہیں۔ گفتگو کا مقصد اور طریقہ اہم ہے۔

اگر کسی غیر محرم سے واقعی ضرورت پیش آئے، مثلاً:

  • تعلیم یا کام سے متعلق ضروری بات ہو؛

  • کسی معاملے کی معلومات لینی یا دینی ہوں؛

  • خرید و فروخت یا کسی جائز معاملے میں رابطہ کرنا ہو؛

  • کسی ضروری انتظامی یا معاشرتی کام کے لیے بات کرنا ہو؛

  • کسی جائز معاملے میں مختصر مشورہ درکار ہو؛

تو ضرورت کے مطابق، سنجیدہ اور باوقار انداز میں بات کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ گفتگو گناہ، فحش کلامی، دل لگی یا فتنے کا ذریعہ نہ بنے۔

لیکن اگر گفتگو کا مقصد صرف دوستی، Time Pass، تنہائی دور کرنا، جذباتی وابستگی پیدا کرنا، Love Affair یا ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہنا ہو تو مسلمان کو اس سے بچنا چاہیے۔

قرآن مجید مؤمن مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہوں کی حفاظت اور پاک دامنی کی ہدایت دیتا ہے۔

قرآن مجید سے اہم رہنمائی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَقُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ

یعنی ایمان والے مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ سورۃ النور، آیت 30۔

اسی کے بعد مؤمن عورتوں کو بھی نگاہوں کی حفاظت اور پاک دامنی کی ہدایت دی گئی ہے۔ سورۃ النور 24:31۔

یہ آیات صرف ظاہری ملاقاتوں کے بارے میں سوچنے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ مسلمان کو مجموعی طور پر پاکیزگی، حیا اور حدود کی حفاظت کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں جب رابطے موبائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی ہوتے ہیں، اس لیے مسلمان کو اپنی Online سرگرمیوں میں بھی تقویٰ اور احتیاط اختیار کرنی چاہیے۔

قرآن میں گفتگو کے انداز کے بارے میں بھی رہنمائی ہے

سورۃ الاحزاب میں ازواجِ مطہرات کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ ... وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا

یعنی گفتگو میں ایسا نرم اور دل لبھانے والا انداز اختیار نہ کیا جائے جس سے کسی بیمار دل شخص کو طمع پیدا ہو، بلکہ مناسب اور معروف بات کی جائے۔ سورۃ الاحزاب 33:32۔

یہ آیت خاص طور پر ازواجِ مطہرات سے خطاب کرتی ہے، لیکن اس میں موجود حیا، گفتگو کے انداز اور فتنہ سے بچنے کی اخلاقی رہنمائی سے مسلمان کو بہت اہم سبق ملتا ہے۔

لہٰذا صرف یہ کافی نہیں کہ الفاظ بظاہر "جائز" ہوں؛ گفتگو کا لہجہ، مقصد، تسلسل اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کیفیت بھی اہم ہے۔

Facebook، WhatsApp اور Instagram پر Comments کا کیا حکم ہے؟

کسی غیر محرم کی پوسٹ پر ہر Comment کو خود بخود حرام قرار دینا درست نہیں، کیونکہ Comment کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔

مثلاً کسی علمی، تعلیمی یا کاروباری پوسٹ پر ضرورت کے مطابق مختصر اور باوقار Comment کرنا ایک الگ معاملہ ہے۔

لیکن اگر Comments کا مقصد:

  • توجہ حاصل کرنا؛

  • Flirting کرنا؛

  • ظاہری خوبصورتی کی تعریف کرنا؛

  • دل لبھانے والے الفاظ لکھنا؛

  • مسلسل ایک دوسرے کے Comments کا انتظار کرنا؛

  • عوامی Comment سے Private Message کی طرف جانا؛

  • جذباتی تعلق پیدا کرنا؛

ہو تو مسلمان کو رک کر سوچنا چاہیے کہ وہ یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہے یا اپنے نفس کی خواہش کے لیے۔

Social Media پر "Public Comment" ہونا اسے خود بخود جائز نہیں بنا دیتا۔ اصل اعتبار مقصد، الفاظ، انداز اور نتیجے کا ہے۔

Private Chat زیادہ حساس کیوں ہے؟

Public Comment کے مقابلے میں Private Chat میں انسان زیادہ آسانی سے جذباتی قربت پیدا کر سکتا ہے۔ ابتدا میں بات صرف "Hello" یا "Assalamualaikum" سے شروع ہوتی ہے، پھر روزانہ گفتگو، پھر ذاتی باتیں، پھر راز، پھر جذبات اور آخرکار ایسا تعلق پیدا ہو سکتا ہے جس سے نکلنا مشکل ہو جائے۔

اسی لیے ایک سمجھ دار مسلمان کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ "ہم ابھی کوئی گناہ کی بات نہیں کر رہے" بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ:

"یہ گفتگو مجھے کس سمت لے جا رہی ہے؟"

اگر رابطہ آہستہ آہستہ حیا کم کر رہا ہے، دل کو غیر محرم سے وابستہ کر رہا ہے یا مزید گفتگو کی خواہش پیدا کر رہا ہے تو یہی وہ مقام ہے جہاں احتیاط ضروری ہے۔

کیا پسند آنے والے لڑکے یا لڑکی سے بات کر سکتے ہیں؟

اگر کسی لڑکے کو کوئی لڑکی پسند آ گئی ہے یا کسی لڑکی کو کوئی لڑکا پسند آ گیا ہے تو محض پسند آ جانا انسان کے اختیار میں نہیں، لیکن اس پسند کو کس راستے پر لے جایا جائے، یہ انسان کے اختیار میں ہے۔

اسلام نکاح کو پاکیزہ راستہ بناتا ہے۔

اگر کسی شخص کو واقعی نکاح کی خواہش ہے تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ معاملے کو گھر والوں اور ذمہ دار بڑوں کے ذریعے نکاح کی طرف لے جایا جائے، نہ کہ لمبی خفیہ Chatting، Love Affair اور غیر ضروری ملاقاتوں کے ذریعے تعلق قائم کیا جائے۔

اگر دونوں خاندان مناسب تحقیق اور مشورے کے بعد نکاح پر رضامند ہو جائیں تو تعلق کو حلال راستے پر لے جانے کی کوشش کی جائے۔

اگر والدین شادی کے لیے راضی نہ ہوں تو کیا کریں؟

یہ معاملہ ہر خاندان اور ہر صورتحال میں ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اس لیے فوراً جذباتی فیصلہ کرنا مناسب نہیں۔

پہلے یہ دیکھا جائے کہ والدین کے انکار کی وجہ کیا ہے۔ اگر کوئی جائز اور اہم وجہ ہے تو اسے سنجیدگی سے سمجھا جائے۔ اگر مسئلہ صرف ضد، غیر ضروری رسم یا نامناسب مطالبات کا ہو تو خاندان کے سمجھ دار افراد، معتبر علماء یا اہلِ علم سے مشورہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ کہنا بھی درست نہیں کہ "والدین نہیں مانتے تو فوراً کوئی اور شادی کر لو"؛ نکاح ایک سنجیدہ شرعی اور خاندانی ذمہ داری ہے، اس لیے اس میں تحقیق، مشورہ اور حکمت ضروری ہے۔

خاص طور پر عورت کے نکاح سے متعلق شرعی تفصیلات میں فقہی مذاہب اور مقامی قانونی حالات بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں، اس لیے کسی مخصوص کیس میں معتبر مفتی یا مستند عالمِ دین سے براہِ راست مسئلہ پوچھنا بہتر ہے۔

منگنی کے بعد بھی کیا لڑکا اور لڑکی محرم بن جاتے ہیں؟

یہ بہت اہم بات ہے۔

منگنی نکاح نہیں ہے۔

اگر صرف رشتہ طے ہوا ہے یا منگنی ہو گئی ہے لیکن نکاح نہیں ہوا تو لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لیے اب بھی غیر محرم ہیں۔ اس لیے منگنی کے بعد بے تکلفی، تنہائی اور غیر ضروری رومانوی تعلق کو نکاح شدہ میاں بیوی کے تعلق کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔

نکاح کے بعد شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لیے حلال ہو جاتے ہیں؛ صرف Engagement یا منگنی سے یہ حکم تبدیل نہیں ہوتا۔

کیا Online Chatting بھی خلوت کے حکم میں ہے؟

یہاں فقہی احتیاط ضروری ہے۔ Online Private Chat کو ہر صورت میں عین وہی "خلوت" کہنا درست نہیں جو فقہ میں جسمانی تنہائی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

البتہ نجی Online رابطہ اگر مسلسل، خفیہ، جذباتی، شہوانی یا فتنہ انگیز ہو تو اس کے گناہ کی طرف لے جانے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے اسے معمولی سمجھنا درست نہیں۔

نبی کریم ﷺ نے غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں اس بارے میں احادیث موجود ہیں۔

یہ احادیث اس بات کی اہمیت واضح کرتی ہیں کہ اسلام مرد و عورت کے تعلقات میں ایسے راستوں سے بھی بچنے کی تعلیم دیتا ہے جو فتنے اور گناہ کا سبب بن سکتے ہیں۔

نا محرم سے بات کرتے وقت عملی اسلامی اصول

اگر کسی حقیقی ضرورت کی وجہ سے غیر محرم سے رابطہ کرنا پڑے تو چند اصول سامنے رکھیں:

1. مقصد واضح رکھیں:
خود سے پوچھیں کہ میں یہ Message کیوں بھیج رہا/رہی ہوں؟ اگر کوئی حقیقی ضرورت نہیں تو Message نہ کرنا زیادہ محفوظ ہے۔

2. گفتگو مختصر رکھیں:
ضرورت پوری ہونے کے بعد گفتگو کو بلاوجہ جاری نہ رکھیں۔

3. لہجہ باوقار ہو:
Flirting، Romantic الفاظ، دل لبھانے والے جملے اور جذباتی انداز سے بچیں۔

4. ذاتی راز شیئر نہ کریں:
اپنے جذبات، گھریلو مسائل اور انتہائی ذاتی باتیں غیر محرم کے ساتھ مسلسل شیئر کرنا جذباتی وابستگی پیدا کر سکتا ہے۔

5. Late-night Chatting سے بچیں:
رات گئے بلا ضرورت مسلسل Private Chatting تعلق کو ایسی سمت لے جا سکتی ہے جس سے بچنا مشکل ہو جائے۔

6. تصاویر اور Voice Messages میں بھی احتیاط کریں:
صرف Text ہی نہیں، بلکہ تصاویر، Videos، Voice Messages اور Video Calls بھی اسی اخلاقی اصول کے تحت آتے ہیں۔

7. گفتگو ختم کرنے کی صلاحیت رکھیں:
اگر آپ جانتے ہیں کہ بات ختم کرنے کے باوجود دوبارہ Message کرنے کی خواہش رہتی ہے تو یہ خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔

8. خفیہ تعلق کو معمول نہ بنائیں:
ایسا تعلق جسے انسان اپنے گھر والوں سے چھپانے پر مجبور ہو، اس کے بارے میں سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

ایک آسان اسلامی Self-Check

کسی غیر محرم کو Message کرنے سے پہلے اپنے آپ سے پانچ سوال کریں:

کیا یہ واقعی ضروری ہے؟
کیا یہی بات میں مختصر انداز میں کہہ سکتا/سکتی ہوں؟
کیا میرے الفاظ باوقار ہیں؟
کیا اس گفتگو سے جذباتی وابستگی بڑھ سکتی ہے؟
اگر میرے والدین یا گھر کے ذمہ دار افراد یہ گفتگو دیکھ لیں تو کیا مجھے شرمندگی ہوگی؟

اگر جواب آپ کو اندر سے متنبہ کر رہا ہے تو رک جانا زیادہ محفوظ ہے۔

اگر پہلے سے غیر محرم سے بہت زیادہ Chatting ہوتی رہی ہو تو کیا کریں؟

مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔

اگر کسی شخص کو احساس ہو جائے کہ وہ غیر ضروری Chatting، Flirting یا Love Affair میں مبتلا ہو گیا ہے تو سب سے بہتر راستہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور عملی تبدیلی ہے۔

  • غیر ضروری رابطہ ختم کریں۔

  • اگر واقعی نکاح کی نیت ہے تو معاملے کو جائز طریقے سے آگے بڑھائیں۔

  • غیر ضروری Private Chats اور پرانے مواد کو ختم کریں۔

  • Social Media پر ایسے Accounts یا Pages سے دور رہیں جو دوبارہ اسی تعلق کی طرف لے جاتے ہوں۔

  • اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کریں۔

  • آئندہ کے لیے واضح حدود مقرر کریں۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ غلطی کے بعد واپس آ جانا ہی کامیابی کی طرف قدم ہے۔

کیا مرد اور عورت ایک دوسرے سے کبھی بات ہی نہیں کر سکتے؟

نہیں، مسئلے کو اتنا مطلق بنانا درست نہیں۔

اسلام نے جائز ضرورت کی گفتگو کو مکمل طور پر ممنوع قرار نہیں کیا۔ اصل مقصد حیا، پاکیزگی، حدود اور فتنہ سے حفاظت ہے۔

ایک مسلمان مرد ڈاکٹر، استاد، طالب علم، ملازم، دکاندار، کسٹمر یا کسی دوسرے جائز معاملے میں عورت سے بات کر سکتا ہے، اور اسی طرح عورت بھی ضرورت کے مطابق مرد سے بات کر سکتی ہے۔ لیکن گفتگو میں شائستگی، ضرورت اور شرعی حدود کی رعایت ہونی چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ مسئلے کو سمجھتے وقت "ہر بات حرام" اور "ہر بات جائز" دونوں انتہاؤں سے بچنا چاہیے۔

مفتی یا عالمِ دین کی عملی تشریح

فقہی مسئلے میں بنیادی اصول یہ ہے کہ غیر محرم مرد و عورت کا تعلق ضرورت اور شرعی حدود کے دائرے میں رہے۔ محض اس بنیاد پر کہ "ہم صرف دوست ہیں" یا "ہماری نیت بری نہیں" ہر قسم کی نجی اور مسلسل گفتگو کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

خاص طور پر جب گفتگو میں محبت، شہوت، لذت، Flirting، فحش باتیں، تصاویر، جذباتی وابستگی یا گناہ کی طرف بڑھنے کا اندیشہ پیدا ہو تو اس سے بچنا زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔

البتہ کسی مخصوص صورتحال کا حتمی فتویٰ اس کی مکمل تفصیل جانے بغیر نہیں دینا چاہیے۔ اگر معاملہ نکاح، منگنی، طلاق، تعلیم، ملازمت، علاج یا کسی خاص مجبوری سے متعلق ہو تو مستند اور بااعتماد مفتی صاحب سے مکمل صورتحال بیان کرکے فتویٰ لینا بہتر ہے۔

خلاصہ: نا محرم سے Chatting، Messages اور Comments کا حکم

غیر محرم سے ہر قسم کی گفتگو کو مطلقاً حرام کہنا درست نہیں۔ جائز ضرورت کے تحت باوقار اور محدود گفتگو کی گنجائش ہے۔

لیکن:

بلا ضرورت Chatting،
صرف Time Pass کے لیے رابطہ،
دوستی کے نام پر مسلسل Private Messages،
Flirting اور Love Affair،
جذباتی وابستگی پیدا کرنے والی گفتگو،
فحش یا شہوانی گفتگو،
غیر ضروری تصاویر اور Videos کا تبادلہ،
اور ایسا Online تعلق جو انسان کو گناہ کی طرف لے جائے—ان سب سے مسلمان کو سخت احتیاط کرنی چاہیے اور گناہ کے اسباب سے دور رہنا چاہیے۔

اسلام کا مقصد صرف یہ نہیں کہ انسان آخری گناہ سے بچے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ایسے راستوں سے بچے جو اسے گناہ تک پہنچا سکتے ہیں۔

اگر کسی لڑکے یا لڑکی کو واقعی ایک دوسرے سے نکاح کی خواہش ہے تو بہتر راستہ یہ ہے کہ تعلق کو خفیہ Love Affair بنانے کے بجائے نکاح کے جائز راستے کی طرف لے جایا جائے۔

حلال محبت نکاح کے بعد زیادہ پاکیزہ، محفوظ اور بابرکت راستہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حیا، پاکیزگی، نگاہوں اور دلوں کی حفاظت، صحیح فیصلے اور حلال راستے اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اہم علمی نوٹ

یہ مضمون عمومی اسلامی رہنمائی کے لیے ہے۔ فقہی تفصیلات میں مذاہبِ فقہ اور مخصوص حالات کے اعتبار سے فرق ہو سکتا ہے۔ اس لیے کسی شخص کے ذاتی معاملے میں حتمی شرعی حکم لگانے کے بجائے مکمل صورتحال کسی مستند، دیانت دار اور بااعتماد مفتی یا عالمِ دین کے سامنے رکھنا بہتر ہے۔

اہم حوالہ جات:

  • قرآن مجید، سورۃ النور 24:30–31 — نگاہوں اور پاک دامنی کی حفاظت۔

  • قرآن مجید، سورۃ الاحزاب 33:32 — گفتگو میں مناسب اور باوقار انداز اختیار کرنے کی ہدایت۔

  • صحیح مسلم 1341c — غیر محرم کے ساتھ خلوت سے متعلق حدیث۔

  • صحیح مسلم 2172a — غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت سے ممانعت۔

Dailymotion Video - مفتی طارق مسحود صاحب بیان

YouTube Video

Comments

Popular posts from this blog

Periods / Haiz Ke Kitne Din Baad Humbistari Karna Chahiye - Haiz Ke Masail In Islam In Urdu

Roze Mein Namak Chakhna Kaisa Hai | Kya Namak Chakhnay Se Roza Toot Jata Hai

Kya Biwi Ko Peeche Se Karna Jaiz Hai? - Humbistari Ke Masail - Sawal Jawab (Questions And Answers In Urdu Language)

Contact Us

Name

Email *

Message *

Copyright © 2026 IlamOne TV All Rights Reserved.