Sadqa Aur Zakat Ka Tarika Kya Hai
Zakat saal meib aik bar Sahab-E-Nisab par farz aur zakat Islam ka aik Rukan hai.
Sadqa do tarah ke hote hain Sadqa-E-Wajiba hote hain aur Sadqa-E-Nafila. Sadqa-E-Wajiba mein Zakat shamil hai. Sadqa-E-Nafila mein Khirat shamil hai jo kisi ko bhi de ja sakti hai.
زکوٰۃ صاحبِ نصاب (جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا زاءد مال یا رقم ہو) پر سال میں ایک دفحہ فرض ہے۔ زکوٰۃ اُس پر فرض ہے جو ایک سال کے لیے صاحبِ نصاب رہے البتہ جن چیزوں پر زکوٰۃ لگتی ہے ان کا ایک سال کے لیے اپنے پاس رکھنا ضروری نہیں ہے۔
زکوٰۃ اس کو دی جاتی ہے جس کے پاس سونا، چاندی، تجارتی مال جو آپ نے اس نیت سے خریدا ہو کہ آپ اس کو بیچیں گیں، رقم یعنی کیش اماونٹ اور وہ سامان جو ضرورت سے زاءد ہو گھریلو سامان جو پورے سال میں استعمال میں نہ ہو اور وہ پراپرٹی جو آپ نے نہ کراءے میں دی ہو یا اس میں خود نہ رہ رہے ہوں یا زراعت کے استعمال میں نہ ہو، کو ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہو یا اس کا قرض صاحب نصاب سے زیادہ ہو۔
صدقہ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک صدقہِ واجِبہ اور ایک صدقہِ نافلہ ہے۔ صدقہ واجبہ وہ ہے جو آپ پرلازم ہے۔ صدقہ واجبہ میں زکوٰۃ، صدقہِ فطر، جو قسم آپ نے توڑی ہو اس کے کفارے کے طور پر جو ادا کرتے ہیں، جو منت مانگ کر آپ نے اپنے اوپر لازم کر لی ہو، شامل ہیں۔ صدقہ واجبہ صرف مخصوص لوگوں کو ہی دیا جا سکتا ہے۔
صدقہ واجبہِ غریبوں اور مسکینوں کا حق ہے۔ غریب وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو اور مسکین وہ ہے جس کے پاس صاحبِ نصاب سے کم مال ہو۔
صدقہِ نافلہ کسی کو بھی، چاہے وہ غریب ہو یا امیر، کو دیا جا سکتا ہے۔ صدقہِ نافلہ کو ہمارے ہاں خیرات بھی کہا جاتا ہے۔

Comments
Post a Comment