Maulana Tariq Jameel Bayan On Sood (Interest) Aur Ain Ke Baitay Ki Wazahat | Sood Dainay Se Kam Haram Nahi Hota Sood Lainay Se Kam Haram Hota Hai?

Maulana Tariq Jameel Bayan On Sood (Interest) Aur Ain Ke Baitay Ki Wazahat | Sood Dainay Se Kam Haram Nahi Hota Sood Lainay Se Kam Haram Hota Hai Islam Mein?

Sood (Interest) Islam Mein Haram Hai — Sood Lena Bhi Aur Sood Dena Bhi

سود یعنی Riba / Interest اسلام میں ایک انتہائی سنگین اور واضح طور پر ممنوع معاملہ ہے۔ اس مسئلے میں ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ سود لینا حرام ہے لیکن سود دینا حرام نہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات درست نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے، سود دینے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں کے بارے میں سخت وعید بیان فرمائی ہے۔ Sahih Muslim 1598 میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، سود دینے والے، اسے لکھنے والے اور دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب برابر ہیں۔

لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سود لینے اور سود دینے دونوں سے بچنے کی کوشش کرے اور کسی بھی مالی معاہدے میں داخل ہونے سے پہلے اس کی شرعی نوعیت کو سمجھ لے۔

بینک سے سودی قرضہ (Interest-Based Loan) لینا کیسا ہے؟

اگر کوئی شخص روایتی بینک سے ایسا Loan لیتا ہے جس کے معاہدے میں اصل رقم سے زیادہ رقم واپس کرنا لازمی قرار دی گئی ہو، اور یہ اضافی رقم قرض کی مدت یا قرض کی رقم کے بدلے مقرر کی گئی ہو، تو عام فقہی موقف کے مطابق یہ سودی قرضہ ہے۔

اسلامی مالی معاملات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ قرض میں اصل رقم واپس کی جاتی ہے، جبکہ قرض پر پہلے سے مشروط اضافہ Riba کے حکم میں آتا ہے۔ پاکستان کا اسٹیٹ بینک بھی اپنی اسلامی بینکاری کی وضاحت میں قرض پر مشروط اضافی رقم کو ربا سے تعبیر کرتا ہے۔

ایک آسان مثال

فرض کریں کسی شخص نے بینک سے 10 لاکھ روپے قرض لیے اور معاہدے کے مطابق اسے 12 لاکھ روپے واپس کرنا ہیں۔

اگر اضافی 2 لاکھ روپے قرض کے بدلے پہلے سے طے شدہ سود ہیں، تو یہ 2 لاکھ روپے Interest / Riba ہیں۔ اصل 10 لاکھ روپے اور اضافی 2 لاکھ روپے کو ایک ہی شرعی حکم نہیں دیا جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید سود کے معاملے میں اصل مال (Principal) اور سودی اضافے کے درمیان فرق واضح کرتا ہے۔

کیا سودی قرض کی اصل رقم بھی حرام ہو جاتی ہے؟

یہاں ایک اہم فقہی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔

اگر کسی شخص نے سودی معاہدہ کرکے رقم حاصل کی تو سودی معاہدہ کرنا اور سودی شرط قبول کرنا گناہ کا معاملہ ہے؛ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرض میں حاصل ہونے والی اصل رقم بذاتِ خود سود بن جائے۔

قرآن مجید میں فرمایا گیا:

"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود میں باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم ایمان والے ہو۔"

سورۃ البقرۃ، 2:278

اس کے بعد اگلی آیت میں فرمایا گیا:

"اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارا اصل مال ہے؛ نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔"

سورۃ البقرۃ، 2:279

یہ آیت بنیادی اصول واضح کرتی ہے کہ اصل مال (Principal) باقی رہتا ہے جبکہ سودی اضافہ چھوڑنا ہوتا ہے۔ International Islamic Fiqh Academy نے بھی سودی معاملات کے بارے میں قرار دیا ہے کہ توبہ کی صورت میں اصل قرض کی رقم سے زیادہ وصول نہیں کی جا سکتی۔

پھر سودی قرض سے خریدی ہوئی چیز کا کیا حکم ہے؟

یہ مسئلہ سودی معاہدے کے گناہ اور بعد میں خریدی جانے والی چیز کے حکم کو الگ الگ سمجھنے کا تقاضا کرتا ہے۔

مثلاً کسی شخص نے سودی قرض کے ذریعے کاروبار کے لیے رقم حاصل کی اور پھر اس رقم سے کوئی جائز چیز خریدی۔ یہاں صرف یہ کہہ دینا درست نہیں کہ “چونکہ قرض سودی تھا، اس لیے خریدی ہوئی ہر چیز لازماً حرام ہو گئی”۔

فقہی مسائل میں اصل معاملے، معاہدے، رقم کے استعمال اور متعلقہ شرائط کو دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے کسی مخصوص کاروبار، گھر، گاڑی یا دوسری خریداری کے بارے میں قطعی فتویٰ دینے سے پہلے مکمل معاملہ کسی مستند مفتی یا دارالافتاء کے سامنے رکھنا زیادہ محفوظ ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ سودی معاہدے کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا صرف اس بنیاد پر کہ حاصل شدہ رقم سے بعد میں کوئی حلال چیز خریدی گئی۔

کیا سود دینا حلال ہے اور سود لینا حرام؟

نہیں۔ یہ جملہ درست اسلامی اصول کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا۔

سودی معاملے میں صرف سود لینے والے کو گناہ گار سمجھنا اور سود دینے والے کو مکمل طور پر بری قرار دینا صحیح نہیں۔ Sahih Muslim 1598 میں رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے اور سود دینے والے دونوں کا ذکر فرمایا، اس کے ساتھ سودی معاملہ لکھنے والے اور گواہوں کو بھی وعید میں شامل کیا۔

اس لیے زیادہ درست بات یہ ہے:

سود لینا بھی حرام ہے اور سود دینا بھی حرام ہے، جبکہ سودی معاہدے میں براہِ راست شریک ہونا بھی سخت قابلِ اجتناب ہے۔

قرآن مجید میں سود کی ممانعت

قرآن مجید نے سود کے بارے میں انتہائی سخت انداز اختیار کیا ہے۔

1. اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔"

سورۃ البقرۃ، 2:275

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ Trade اور Riba ایک چیز نہیں ہیں۔ تجارت میں خرید و فروخت، ملکیت، خطرہ اور حقیقی کاروباری سرگرمی شامل ہو سکتی ہے، جبکہ قرض پر مشروط اضافہ ایک الگ معاملہ ہے۔

2. سود چھوڑنے کا حکم

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود میں باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم ایمان والے ہو۔"

سورۃ البقرۃ، 2:278

3. سود کے معاملے میں انتہائی سخت وعید

اسی سلسلے میں اگلی آیت میں فرمایا گیا:

"پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو۔"

سورۃ البقرۃ، 2:279

یہ قرآن مجید میں سود کی حرمت اور اس کی سنگینی کے بارے میں آنے والی سب سے سخت تنبیہات میں سے ہے۔

4. اصل مال رکھنے کا اصول

اسی آیت میں فرمایا گیا:

"اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارا اصل مال ہے۔"

سورۃ البقرۃ، 2:279

یہی وجہ ہے کہ اسلامی فقہ میں Principal اور Interest کو الگ سمجھنا ضروری ہے۔

سود کے بارے میں صحیح حدیث

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے، سود دینے والے، اس کا معاملہ لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب برابر ہیں۔

Sahih Muslim, Hadith 1598

یہ حدیث اس غلط فہمی کو دور کرتی ہے کہ صرف سود کھانے والا ہی گناہ گار ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والا اہم سبق

  • سود لینا جائز نہیں۔

  • سود دینا بھی جائز نہیں۔

  • سودی معاہدہ لکھنے میں تعاون کرنا خطرناک معاملہ ہے۔

  • سودی معاہدے کی گواہی دینے سے بھی بچنا چاہیے۔

  • مسلمان کو حتی الامکان اپنے مالی معاملات کو سود سے پاک رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

سودی Saving Account کا منافع کیا حکم رکھتا ہے؟

روایتی بینک کے Interest-Bearing Savings Account سے ملنے والی وہ اضافی رقم جو سودی معاہدے کے تحت ملتی ہے، عام فقہی موقف کے مطابق سود کے حکم میں آتی ہے۔

International Islamic Fiqh Academy نے سودی بینکوں کے ایسے deposits کو بھی ممنوع قرار دیا ہے جن پر بینک مقررہ interest ادا کرتا ہے۔

اس لیے کسی مسلمان کو چاہیے کہ صرف لفظ “Profit” دیکھ کر مطمئن نہ ہو بلکہ یہ معلوم کرے کہ رقم کس معاہدے کے تحت حاصل ہو رہی ہے۔

ہر Profit سود نہیں ہوتا، لیکن ہر وہ مقررہ اضافہ جو قرض کے بدلے شرط کے طور پر لیا جائے، سود کے مسئلے میں آ سکتا ہے۔

یہاں Islamic Banking اور Conventional Banking کے معاہدوں میں فرق کو سمجھنا بہت اہم ہے۔

سود اور جائز کاروباری منافع میں فرق

اسلام نے تجارت اور کاروباری منافع کو حرام نہیں کیا۔

مثلاً:

تجارت:
ایک شخص کوئی چیز خریدتا ہے، اس کی ملکیت حاصل کرتا ہے، پھر اسے منافع کے ساتھ فروخت کرتا ہے۔

قرض پر سود:
ایک شخص رقم قرض دیتا ہے اور پہلے ہی شرط لگا دیتا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد اصل رقم کے ساتھ اتنی اضافی رقم بھی لازماً واپس کی جائے گی۔

یہ دونوں معاملات بظاہر “رقم میں اضافہ” سے متعلق محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن شرعی اعتبار سے ان کی حقیقت مختلف ہے۔ قرآن مجید نے بھی تجارت کو حلال اور ربا کو حرام قرار دیا ہے۔

“سود دینے سے کم حرام ہوتا ہے” والی بات کیوں درست نہیں؟

بعض اوقات عام گفتگو میں کہا جاتا ہے:

“سود لینے سے زیادہ گناہ ہے، سود دینے سے کم گناہ ہے۔”

اس قسم کے جملے لوگوں کو یہ غلط تاثر دے سکتے ہیں کہ سود دینا معمولی یا جائز ہے۔

صحیح طرزِ بیان یہ ہے کہ سود لینا اور سود دینا دونوں ممنوع ہیں۔ البتہ کسی خاص شخص کے حالات، مجبوری، اختیار، علم، جبر اور معاملے کی نوعیت کو دیکھ کر گناہ کی ذمہ داری کے بارے میں تفصیلی حکم الگ ہو سکتا ہے۔ ایسے مخصوص معاملات کا فیصلہ مستند مفتی ہی کر سکتا ہے۔

Mufti کی تشریح: سود کے مسئلے کو کیسے سمجھیں؟

فقہی اعتبار سے سود کے مسئلے کو صرف “پیسہ زیادہ ہوا یا کم” کے زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے:

اضافی رقم کس معاہدے کے نتیجے میں حاصل ہوئی؟

اگر ایک قرض میں پہلے سے شرط لگا دی گئی کہ قرض لینے والا اصل رقم سے زیادہ واپس کرے گا، تو یہ سودی معاملے کی بنیادی علامت ہے۔

دوسری طرف اگر کوئی حقیقی تجارت، اجارہ، مشارکہ، مضاربہ یا کوئی دوسرا شرعی مالی معاہدہ ہو تو اس کا حکم الگ ہو سکتا ہے۔

اسی لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ:

“بینک نے مجھے رقم دی اور میں نے اس سے حلال چیز خرید لی، لہٰذا پورا معاملہ حلال ہے۔”

معاہدے کی حقیقت بھی دیکھی جائے گی۔

عملی اسلامی سوچ: اگر سودی قرض پہلے ہی لے لیا ہو تو کیا کریں؟

اگر کسی شخص نے پہلے ہی سودی قرض لے لیا ہے تو اسے مایوس ہونے کے بجائے توبہ، اصلاح اور آئندہ کے درست مالی فیصلے کی طرف آنا چاہیے۔

1. سودی معاملہ دوبارہ اختیار نہ کرنے کا عزم کریں

اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کریں اور آئندہ سودی معاملات سے بچنے کی کوشش کریں۔

2. موجودہ معاہدے کی تفصیل کسی مستند مفتی کو دکھائیں

صرف “بینک لون” کہنے سے ہر معاملے کی مکمل شرعی صورت سامنے نہیں آتی۔ معاہدے کی شرائط، interest rate، penalties، fees اور repayment structure دیکھنا ضروری ہو سکتا ہے۔

3. اصل رقم اور سود کو الگ سمجھیں

قرآن مجید نے Principal کو الگ ذکر کیا ہے اور سودی اضافے کو چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ سورۃ البقرۃ 2:279 اس اصول کی بنیادی دلیل ہے۔

4. متبادل مالی راستے تلاش کریں

ضرورت ہو تو سودی قرض کے بجائے:

  • جائز تجارت

  • قرضِ حسنہ

  • خاندان یا قابلِ اعتماد افراد سے بلا سود قرض

  • شرعی طور پر درست اسلامی مالیاتی معاہدے

  • حقیقی شراکت داری

  • اپنی استطاعت کے مطابق خریداری

جیسے متبادل راستوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔

5. “Islamic” نام دیکھ کر فوراً فیصلہ نہ کریں

اگر کوئی مالیاتی product خود کو اسلامی کہتا ہے تو اس کے اصل معاہدے کو سمجھنا چاہیے۔ صرف نام، اشتہار یا کسی ایک لفظ کی بنیاد پر شرعی حکم نہیں لگانا چاہیے۔

ایک عام مسلمان کے لیے آسان خلاصہ

اگر آپ سود کے مسئلے کو بہت آسان الفاظ میں سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ پانچ باتیں یاد رکھیں:

1. سود (Riba) اسلام میں حرام ہے۔

2. سود لینا بھی حرام ہے اور سود دینا بھی حرام ہے۔

3. سودی معاہدہ کرنا جائز نہیں، اور حدیث میں اس کے مختلف شرکاء کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔

4. قرآن مجید نے سود چھوڑنے کا حکم دیا اور توبہ کی صورت میں اصل مال (Principal) کا ذکر کیا ہے۔

5. کسی خاص بینک، قرض، گھر، گاڑی، کاروبار یا مالیاتی product کا شرعی حکم جاننے کے لیے مکمل معاہدہ کسی مستند مفتی یا دارالافتاء کو دکھانا بہتر ہے۔

آخری بات

سود کا مسئلہ صرف “سود لینے والا گناہ گار ہے یا سود دینے والا؟” تک محدود نہیں۔ اسلام مسلمان کو اپنے پورے مالی نظام کے بارے میں محتاط رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔

قرآن مجید نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا، سود چھوڑنے کا حکم دیا اور سودی معاملات کے بارے میں انتہائی سخت وعید سنائی۔

اس لیے بہتر اسلامی رویہ یہ ہے کہ مسلمان سود کو معمولی نہ سمجھے، سودی معاہدوں سے حتی الامکان بچے، اپنے مالی معاملات کو سمجھے، اور مشکل یا پیچیدہ معاملے میں مستند مفتی سے شرعی رہنمائی حاصل کرے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق کمانے، حرام سے بچنے اور اپنے تمام مالی معاملات کو شریعت کے مطابق درست کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Facebook Video | Mufti Tariq Masood Sahab Bayan / Speech

Comments

Popular posts from this blog

Periods / Haiz Ke Kitne Din Baad Humbistari Karna Chahiye - Haiz Ke Masail In Islam In Urdu

Roze Mein Namak Chakhna Kaisa Hai | Kya Namak Chakhnay Se Roza Toot Jata Hai

(Nikah) Shadi Ki Pehli Raat Ki (Islamic) Dua In Arabic With Urdu And English Translation (Tarjuma)

Contact Us

Name

Email *

Message *

Copyright © 2026 IlamOne TV All Rights Reserved.