Mufti Sahab Nikah Parhne Ki Fees Kitni Laitay Hain?

Mufti Sahab Nikah Parhne Ki Fees Kitni Laitay Hain | Mufti Tariq Masood Sahab

مفتی طارق مسعود صاحب نکاح پڑھانے کی کتنی فیس لیتے ہیں؟

بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ مفتی طارق مسعود صاحب نکاح پڑھانے کی کتنی فیس لیتے ہیں؟ اس سوال کا جواب صرف رقم جان لینے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود شرعی، انتظامی اور عملی پہلوؤں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسلام میں نکاح ایک عبادت، سنت اور معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر کسی عالمِ دین یا مفتی کی طرف سے نکاح پڑھانے کے ساتھ انتظامی اخراجات بھی وابستہ ہوں تو ان کی حقیقت کو سمجھ کر ہی رائے قائم کرنی چاہیے۔


مختصر جواب

دستیاب معلومات کے مطابق مفتی طارق مسعود صاحب نکاح پڑھانے کے لیے تقریباً سات یا آٹھ ہزار روپے فیس رکھتے ہیں۔ اس رقم کا مقصد صرف نکاح پڑھانے کی اجرت لینا نہیں بلکہ اس میں وہ انتظامی اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں جو نکاح کے قانونی اور سرکاری مراحل مکمل کرنے میں خرچ ہوتے ہیں۔


فیس رکھنے کی وجہ کیا ہے؟

پہلے مفتی طارق مسعود صاحب نکاح پڑھانے کی کوئی فیس مقرر نہیں کرتے تھے۔ لیکن اس صورت میں ان کے اسسٹنٹ کو ہونے والے اخراجات مفتی صاحب کو اپنی جیب سے ادا کرنے پڑتے تھے۔

اسسٹنٹ کی ذمہ داریوں میں عام طور پر درج ذیل کام شامل ہوتے ہیں۔

  • نکاح نامہ درست طریقے سے بھرنا۔

  • متعلقہ یونین کونسل میں رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا۔

  • ضرورت کے مطابق نادرا سے متعلقہ قانونی کارروائی مکمل کروانا۔

  • دستاویزات کی تیاری اور جمع کروانے کے مراحل کی نگرانی کرنا۔

اسی وجہ سے بعد میں تقریباً سات یا آٹھ ہزار روپے کی فیس مقرر کی گئی تاکہ ان انتظامی اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔


اگر کوئی فیس نہ دے سکے تو؟

بیان کے مطابق اگر کوئی شخص یہ فیس ادا نہ کر سکے تو اس سے سختی یا تفتیش نہیں کی جاتی کہ اس کے پاس پیسے ہیں یا نہیں۔ ایسی صورت میں مفتی صاحب اپنے خرچے سے اسسٹنٹ کے اخراجات ادا کر دیتے ہیں۔

یہ طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقصد لوگوں پر بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ انتظامی ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے پورا کرنا ہے۔


کیا نکاح پڑھانے کی فیس لینا شرعاً جائز ہے؟

فقہائے کرام کی وضاحت کے مطابق اگر کوئی عالمِ دین نکاح کے ساتھ وابستہ وقت، سفر، دستاویزات، قانونی کارروائی اور انتظامی خدمات انجام دیتا ہے تو ان خدمات کے عوض مناسب معاوضہ لینا شرعاً ناجائز نہیں، بشرطیکہ اس میں ظلم، لالچ یا لوگوں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا شامل نہ ہو۔

اصل عبادت یعنی نکاح کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے، جبکہ انتظامی خدمات کا معاوضہ ایک الگ معاملہ ہے۔


قرآن مجید کی رہنمائی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور نکاح کر دو اپنے اُن لوگوں کا جو تم میں بے نکاح ہوں۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔"

(سورۃ النور: 32)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نکاح کو آسان بنانے کی تعلیم دیتا ہے اور رزق کی تنگی کو نکاح میں رکاوٹ نہیں بناتا۔


احادیث مبارکہ کی روشنی

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والا اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والا ہے۔"

(صحیح بخاری: 5066، صحیح مسلم: 1400)

یہ حدیث نکاح کی اہمیت اور اس کی ترغیب کو واضح کرتی ہے۔


بیوی بچوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم جو خرچ اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہو اس پر تمہیں اجر ملتا ہے، حتیٰ کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھتے ہو۔"

(صحیح بخاری: 56، صحیح مسلم: 1628)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی اہلیہ اور بچوں پر اخلاص کے ساتھ خرچ کرنا بھی باعثِ اجر و ثواب ہے۔


مفتی حضرات کی وضاحت

علمائے کرام عام طور پر یہ وضاحت کرتے ہیں کہ اگر نکاح کے ساتھ سرکاری کاغذات، رجسٹریشن، سفر، وقت اور دیگر عملی خدمات وابستہ ہوں تو ان کے اخراجات لینا جائز ہے۔ البتہ نکاح کو تجارت بنانا، غیر معمولی فیس مقرر کرنا یا لوگوں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔

اسی لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ نکاح کو آسان بنانے کی کوشش کرے اور اگر کسی عالم یا ادارے کی طرف سے مناسب انتظامی اخراجات لیے جائیں تو انہیں اسی تناظر میں دیکھا جائے۔


نوجوانوں کے لیے اہم نصیحت

بعض نوجوان نکاح کے اخراجات سے گھبرا جاتے ہیں، حالانکہ اسلام فضول رسم و رواج سے منع کرتا ہے لیکن جائز اور ضروری اخراجات سے نہیں۔

اگر آپ اپنی استطاعت کے مطابق:

  • مہر ادا کرتے ہیں،

  • بیوی کا نان و نفقہ پورا کرتے ہیں،

  • گھر کی ضروریات پوری کرتے ہیں،

  • بچوں کی پرورش پر خرچ کرتے ہیں،

تو یہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاں باعثِ اجر ہیں۔

اس لیے غیر ضروری نمود و نمائش سے بچیں، مگر جائز ذمہ داریوں سے بھی پیچھے نہ ہٹیں۔


اہم بات

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ مختلف علماء، اداروں اور شہروں میں نکاح کے انتظامی اخراجات مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک شخصیت کی فیس کو تمام علماء پر منطبق کرنا درست نہیں۔ اگر کسی مخصوص عالم یا ادارے کی موجودہ فیس معلوم کرنی ہو تو بہتر ہے کہ براہِ راست ان کے دفتر یا متعلقہ انتظامیہ سے رابطہ کیا جائے، کیونکہ وقت کے ساتھ اخراجات تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

کیا مفتی طارق مسعود صاحب نکاح پڑھانے کی فیس لیتے ہیں؟

جی، دستیاب معلومات کے مطابق تقریباً سات یا آٹھ ہزار روپے فیس مقرر کی گئی ہے تاکہ نکاح سے متعلق انتظامی اخراجات پورے کیے جا سکیں۔

یہ فیس کس چیز کی ہوتی ہے؟

اس میں نکاح نامہ بھرنے، یونین کونسل میں رجسٹریشن، نادرا سے متعلقہ کارروائی اور دیگر انتظامی خدمات شامل ہو سکتی ہیں۔

اگر کوئی فیس نہ دے سکے تو کیا ہوگا؟

بیان کے مطابق اگر کوئی شخص فیس ادا نہ کر سکے تو اس سے سختی یا تفتیش نہیں کی جاتی، اور بعض صورتوں میں اسسٹنٹ کے اخراجات مفتی صاحب خود ادا کر دیتے ہیں۔

کیا اسلام میں نکاح پڑھانے کی فیس لینا جائز ہے؟

اگر یہ رقم انتظامی خدمات، وقت اور جائز اخراجات کے بدلے ہو اور اس میں ظلم یا ناجائز مطالبہ شامل نہ ہو تو فقہائے کرام کے نزدیک اس کی گنجائش موجود ہے۔

کیا بیوی بچوں پر خرچ کرنا ثواب ہے؟

جی ہاں۔ صحیح احادیث کے مطابق اللہ کی رضا کے لیے اہل و عیال پر کیا گیا خرچ بھی صدقہ اور باعثِ اجر ہے۔


خلاصہ

مفتی طارق مسعود صاحب نکاح پڑھانے کی فیس تقریباً سات یا آٹھ ہزار روپے بتائی جاتی ہے، جس کا مقصد نکاح کے ساتھ وابستہ انتظامی اور قانونی اخراجات کو پورا کرنا ہے۔ اسلام نکاح کو آسان بنانے کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ فضول رسومات سے بچیں، جائز اخراجات کو خوش دلی سے ادا کریں اور اپنی استطاعت کے مطابق بیوی بچوں پر خرچ کریں، کیونکہ یہ خرچ اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعثِ اجر و ثواب ہے۔ ساتھ ہی کسی بھی عالمِ دین یا ادارے کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت مکمل پس منظر اور شرعی اصولوں کو ضرور پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

Nikah Parhne Ki Fees | Mufti Tariq Masood Sahab

Facebook Video

Comments

Popular posts from this blog

Periods / Haiz Ke Kitne Din Baad Humbistari Karna Chahiye - Haiz Ke Masail In Islam In Urdu

Roze Mein Namak Chakhna Kaisa Hai | Kya Namak Chakhnay Se Roza Toot Jata Hai

(Nikah) Shadi Ki Pehli Raat Ki (Islamic) Dua In Arabic With Urdu And English Translation (Tarjuma)

Contact Us

Name

Email *

Message *

Copyright © 2026 IlamOne TV All Rights Reserved.