Insan Ko Mayoos Nahi Hona Chahiye
انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے | Insan Ko Pur Umeed
Hona Chahiye
ایک انسان کو بلند حوصلہ اور ہمت رکھنی چاہیے۔ مایوسی گناہ ہے۔ ویسے اللہ سے آسانی مانگنی چاہیے کیونکہ ہم اُس کے عاجز بندے ہیں لیکن اگر مصیبت آ جائے تو نماز پڑنی اور صبر کرنا چاہیے اور اللہ سے صبر کی دعا کرنی چاہیے۔ ایسے حالات میں اگر آپ صبر نہیں کرتے تو آپ بے صبر انسان ہیں اور اللہ بے صبرے انسان کو پسند نہیں کرتا۔ اگر آپ ایسے وقت میں صبر کرتے ہیں تو اللہ بیشک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یہی وہ وقت ہے جس میں آپ صبر کر کے اپنے اللہ کو راضی کر سکتے ہیں اور اس کی تقدیر پر بھی راضی رہیں جو اِس نے آپ کے لیے لکھ رکھی ہے۔ اگر آپ اپنی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن پھر بھی آپ کی وہ آرزو، کام یا ہدف پورا نہیں ہوتا تو بھی کوئی بات نہیں کیونکہ آپ کا اللہ آپ سے راضی ہے اور یہی اصل کامیابی ہے۔ یہی تو مقصد ہے کہ ہم اپنے آپ کو اپنے اللہ کے سُپرد کرتے ہیں اور جو اللہ چاہے اور وہ ہم سے بہتر جانتا ہے۔
اس بات کو سمجنے کے لیے ایک مثال لیں۔ فرض کریں آپ ڈاکٹر بننا چاہتے تھے لیکن آپ بَن نہ سکے اور پروفیسر بَن گے حالانکہ آپ نے اپنی پوری کوشش کی تھی۔ اب اگر ڈاکٹر بننے سے آپ کا مقصد اللہ کو راضی کرنا تھا کہ میں انسانیت کی خدمت کرو، تو مبارک ہو آپ کامیاب ہو گے کیونکہ ڈاکٹر بننا اصل ہدف نہیں تھا بلکہ اصل مقصد اللہ کی رضا تھی تو آپ ڈاکٹر نہ بَن کر بھی کامیاب ہیں۔ اللہ آپ سے تعلیم کے میدان میں خدمات لینا چاہتا تھا۔ اب آپ اس تقدیر پر راضی رہیں اور یہی کامیابی اور ڈپریشن کا علاج ہے۔
مایوس انسان پر شیطان اپنے شیطانی وار کرتا ہے جس کی وجہ سے انسان اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے اور خودکشی جیسا اقدام کرتا ہے، کبیرہ گناہ (قتل کرنا، زِنا کرنا، داڑھی نہ رکھنا، پردہ نہ کرنا وغیرہ وغیرہ) کرتا ہے۔ اس لیے اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اور بیشک اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔
انسان کو مثبت سوچنا چاہیے اور منفی خیالات سے بچنا چاہیے تاکہ مایوسی پیدا نہ ہو ورنہ یہ منفی سوچ اس کو پُر سکون زندگی نہیں گزارنے دے گی۔
انسان کو مثبت سوچنا چاہیے اور منفی خیالات سے بچنا چاہیے تاکہ مایوسی پیدا نہ ہو ورنہ یہ منفی سورچ اس کو پُر سکون زندگی نہیں گزارنے دے گی۔ زندگی ایک آزماءش کی جگہ ہے اور اس میں وہی کامیاب ہے جو اللہ کی مان کر چلتا ہے چاہے اس کا نفس یا شیطان اسے ایسا کرنے سے روکے۔ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور کامیابی انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو ثابت قدم رہتے ہیں اور اپنے اصل ہدف (یعنی اللہ کی رضا) سے پیچھے نہیں ہٹتے۔
ایک انسان کو کوشش اور ہمت سے کام لینا چاہیے اور اللہ ایسے شخص کی مدد کرتا ہے۔ لحاظا اسے اپنے جائز مقصد کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور ہمت کر نہیں ہارنی چاہیے۔ پھر اگر وہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ٹھیک اور نہ ہو تو بھی کوئی ٹینشن لینے کی ضرورت نہں ہے اللہ کو یہی منطور تھا۔
ایک انسان کو سوچنا چاہیے کہ یہ زندگی ایک آزمائش کی جگہ ہے جبکہ آخرت اصل زندگی اور ٹھکانا ہے اس لیے وہ اس وقت جس حالت میں بھی ہے وہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش اور امتحان ہے اس لیے اللہ کی رضا کے لیے اپنے آپ کو ہر وقت تیار رکھنا چاہیے تاکہ اصل کامیابی حاصل ہو سکے۔
اللہ ہمیں سننے، کہنے سمجھنے اور پھر عمل کی توفیق عطا کرے۔ آمین!


Comments
Post a Comment