Mr. Iqrar-Ul-Hassan Gave A Very Wrong Statement About Daughter Emotionally And In Hurry

Mr. Iqrar-Ul-Hassan Gave A Very Wrong Statement About Daughter

اقرار الحسن صاحب کا بیٹی کے بارے میں بیان اور اسلامی نقطۂ نظر

مینارِ پاکستان واقعہ، جس میں لاہور کی ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کو ہراساں کیے جانے کا افسوس ناک واقعہ سامنے آیا، اس کے بعد سرِعام پروگرام کے میزبان اقرار الحسن صاحب کی طرف منسوب ایک بیان سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آیا۔ اس بیان میں یہ الفاظ بیان کیے گئے:

”اللہ کا شکر ہے کہ میری بیٹی نہیں ہے۔“

اگر یہ الفاظ اسی مفہوم اور نیت سے کہے گئے تھے کہ بیٹی کا ہونا ایسی چیز ہے جس سے انسان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ اس سے محروم ہے، تو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ سوچ اور اندازِ بیان درست نہیں۔

البتہ کسی شخص کے ایک جذباتی یا عجلت میں کہے گئے جملے کی بنیاد پر اس کی نیت، ایمان یا پورے کردار کے بارے میں فیصلہ کرنا بھی درست طریقہ نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ بات کسی انتہائی افسوس ناک واقعے پر جذباتی ردِعمل کے طور پر کہی گئی ہو۔ اس لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ بیان کی غلطی کی اصلاح کی جائے، قرآن و سنت کی تعلیم واضح کی جائے اور کسی شخص کی نیت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے۔

مینارِ پاکستان جیسے افسوس ناک واقعے پر کسی باپ کا اپنی بیٹی کی حفاظت کے بارے میں خوف زدہ ہونا ایک فطری بات ہے، لیکن بیٹی کے وجود کو ناپسند کرنا اور بیٹی کی حفاظت کے بارے میں فکر کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔


اسلام میں بیٹی کو منحوس یا بوجھ نہیں سمجھا گیا

اسلام نے اس جاہلی سوچ کو ختم کیا جس میں بعض لوگ بیٹی کی پیدائش کو باعثِ شرمندگی سمجھتے تھے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں:

”اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔“

سورۃ النحل، 16:58

اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ اس غلط سوچ کی مذمت فرماتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ایسے لوگ اس بچی کو لوگوں سے چھپاتے پھرتے تھے کہ اسے ذلت کے ساتھ رکھیں یا مٹی میں دبا دیں۔

سورۃ النحل، 16:59

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ بیٹی کی پیدائش کو باعثِ شرمندگی سمجھنا جاہلیت کی سوچ ہے، اسلامی سوچ نہیں۔

اسلام نے بیٹی کو حقیر نہیں سمجھا بلکہ اس کے حقوق، عزت، تعلیم، کفالت، وراثت اور حسنِ سلوک پر زور دیا۔


بیٹی اور بیٹا دونوں اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں

اللہ تعالیٰ سورۃ الشوریٰ میں فرماتے ہیں:

”آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا فرماتا ہے۔“

سورۃ الشوریٰ، 42:49

یہ آیت ایک بہت اہم اسلامی حقیقت بیان کرتی ہے:

اولاد اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔

اللہ تعالیٰ کسی کو بیٹے عطا فرماتے ہیں، کسی کو بیٹیاں، کسی کو دونوں، اور کسی کو اپنی حکمت کے مطابق اولاد نہیں دیتے۔

اس لیے بیٹی کی پیدائش کو ذلت یا شرمندگی سمجھنا اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔


بیٹی اللہ کی نعمت ہے، لیکن اس نعمت کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے

بیٹی کو نعمت کہنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ اس کی پرورش میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔

والدین کو اولاد کے معاملے میں بہت سی ذمہ داریاں پوری کرنی پڑتی ہیں، مثلاً:

  • اچھی دینی تربیت

  • مناسب تعلیم

  • اخلاق و کردار کی تربیت

  • حفاظت اور نگہداشت

  • حلال رزق فراہم کرنا

  • اچھا ماحول دینا

  • شادی کے معاملات میں مناسب رہنمائی

  • جذباتی اور اخلاقی تربیت

  • اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعلیم

یہ ذمہ داریاں بعض اوقات مشکل ضرور ہوتی ہیں، لیکن مشکل ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ منحوس یا بوجھ ہے۔

اسلام میں بہت سی عظیم نیکیاں قربانی اور محنت کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں۔


دو بیٹیوں کی پرورش پر نبی کریم ﷺ کی عظیم بشارت

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کی بلوغت تک پرورش کی، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح ہوں گے۔“

راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر قربت کی طرف اشارہ فرمایا۔

صحیح مسلم، حدیث 2631

یہ حدیث والدین کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے۔

ایک مسلمان کے لیے بیٹی صرف مالی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا موقع بھی ہو سکتی ہے جس کے ذریعے وہ عظیم اجر حاصل کرے۔


دو یا تین بیٹیوں کے ساتھ حسنِ سلوک جنت کا ذریعہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں، یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں، وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے، ان کے حقوق کے بارے میں اللہ سے ڈرتا رہے، تو یہ اس کے لیے جنت کا سبب بنیں گی۔

جامع الترمذی، حدیث 1916

اس حدیث میں صرف بیٹی کی موجودگی کا ذکر نہیں بلکہ حسنِ سلوک، ذمہ داری اور اللہ کا خوف بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

یعنی بیٹی کی پرورش ایک امانت ہے۔


بیٹیوں کے ساتھ صبر جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”جس شخص کو بیٹیوں کے ذریعے آزمائش پیش آئے اور وہ ان کے ساتھ صبر کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے ڈھال بن جائیں گی۔“

جامع الترمذی، حدیث 1913

یہاں ”آزمائش“ کا مطلب یہ نہیں کہ بیٹی کوئی بری چیز ہے۔ بلکہ اولاد کی پرورش میں آنے والی ذمہ داری، محنت اور امتحان کی طرف اشارہ ہے۔

جو والدین اپنی اولاد کے حقوق ادا کرتے ہیں، ان کے ساتھ محبت اور صبر سے پیش آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، ان کے لیے احادیث میں عظیم اجر کی بشارت دی گئی ہے۔


مفتی کی نظر میں اس معاملے کی اہم اسلامی تشریح

اگر کوئی شخص کسی افسوس ناک واقعے کے بعد یہ کہے کہ:

”میں اپنی بیٹی کی حفاظت کے بارے میں بہت فکر مند ہوں۔“

تو یہ فطری اور قابلِ فہم بات ہے۔

لیکن اگر کوئی شخص یہ مفہوم بیان کرے کہ:

”اللہ کا شکر ہے کہ مجھے بیٹی نہیں ملی۔“

تو اس جملے کی اصلاح ضروری ہے، کیونکہ اسلام میں بیٹی کی پیدائش کو بذاتِ خود ایسی مصیبت نہیں قرار دیا گیا جس سے نجات پر شکر ادا کیا جائے۔

ایک اہلِ علم یا مفتی کی متوازن تشریح یہی ہوگی کہ:

بیٹی سے متعلق خوف اور بیٹی سے نفرت ایک چیز نہیں ہیں۔

والد اپنی بیٹی کی حفاظت کے بارے میں فکرمند ہو سکتا ہے، لیکن اسے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اولاد کے بارے میں ناشکری یا تحقیر کے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہییں۔

ساتھ ہی کسی مخصوص شخص کی نیت یا دل کا حال جانے بغیر اس پر سخت شرعی حکم لگانا بھی درست نہیں۔

الفاظ کی اصلاح کی جائے، شخص کی نیت کا فیصلہ نہ کیا جائے۔


مینارِ پاکستان واقعہ کا اصل سبق کیا ہونا چاہیے؟

مینارِ پاکستان واقعہ انتہائی افسوس ناک تھا۔ کسی خاتون یا مرد کے ساتھ ہراسانی، بدتمیزی، تشدد یا عزت و وقار کی پامالی اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

لیکن ایسے واقعے کا درست نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ:

”بیٹی ہونا ہی مسئلہ ہے۔“

بلکہ ہمیں یہ سوچنا چاہیے:

مسئلہ بدسلوکی کرنے والے شخص کا کردار ہے۔

اگر کوئی مرد کسی عورت کو ہراساں کرتا ہے تو اس گناہ کی ذمہ داری اس شخص پر ہے۔

کسی بیٹی کو اس لیے برا نہیں سمجھا جا سکتا کہ معاشرے میں کچھ لوگ غلط کردار رکھتے ہیں۔


بیٹیوں کی حفاظت کیسے کی جائے؟ عملی اسلامی سوچ

اسلامی حل یہ نہیں کہ بیٹیوں کو ہی مسئلہ سمجھا جائے۔

اسلامی حل یہ ہے کہ بیٹیوں اور بیٹوں دونوں کی صحیح تربیت کی جائے۔

1. بیٹی کو دین کی تعلیم دیں

بیٹی کو صرف دنیاوی تعلیم نہیں بلکہ ایمان، نماز، حیا، اخلاق، حقوق اور ذمہ داریوں کی بھی تعلیم دینی چاہیے۔

2. بیٹی کو خود اعتمادی دیں

بیٹی کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کی عزت، شخصیت اور قدر صرف ظاہری خوبصورتی یا لوگوں کی پسند سے وابستہ نہیں۔

3. بیٹوں کی تربیت بھی کریں

معاشرے میں خواتین کی عزت کی ذمہ داری صرف لڑکیوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔

والدین کو اپنے بیٹوں کو بھی سکھانا چاہیے کہ:

  • عورت کی عزت کریں۔

  • دوسروں کی حدود کا احترام کریں۔

  • اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں۔

  • بدتمیزی اور ہراسانی سے بچیں۔

  • کسی کی عزت پامال نہ کریں۔

  • غلط کام دیکھیں تو اس کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔

4. حفاظت اور آزادی میں توازن رکھیں

بیٹی کی حفاظت ضروری ہے، لیکن حفاظت کے نام پر اسے مسلسل خوف، ذلت یا غیر ضروری پابندیوں میں رکھنا بھی درست اسلامی تربیت نہیں۔

والدین کو محبت، حکمت اور اعتماد کے ساتھ رہنمائی کرنی چاہیے۔

5. سوشل میڈیا کے استعمال کی تربیت دیں

آج کے دور میں والدین کو بچوں کو سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات دونوں سمجھانے چاہییں۔

انہیں یہ بھی سکھانا چاہیے کہ:

  • ذاتی معلومات محفوظ رکھیں۔

  • اجنبی لوگوں پر فوراً اعتماد نہ کریں۔

  • مشکوک پیغامات اور رابطوں سے محتاط رہیں۔

  • کسی خطرناک صورتِ حال میں والدین یا قابلِ اعتماد بڑے کو فوراً بتائیں۔


بیٹی کی عزت صرف باپ کی ذمہ داری نہیں

ایک صحت مند اسلامی معاشرے میں بیٹی کی عزت صرف اس کے والد کی ذمہ داری نہیں۔

باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی تربیت اور حفاظت کرے۔

ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ محبت اور حکمت سے تربیت کرے۔

بھائی کی ذمہ داری ہے کہ وہ عزت اور احترام کا معاملہ کرے۔

بیٹے کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسری خواتین کی عزت کرے۔

معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ظلم اور ہراسانی کے خلاف کھڑا ہو۔

اور سب سے بڑھ کر:

ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔


جذباتی حالت میں کہے گئے الفاظ کی اصلاح کیسے ہونی چاہیے؟

انسان کبھی شدید غم، خوف، غصے یا صدمے میں ایسی بات کہہ سکتا ہے جسے بعد میں بہتر الفاظ میں بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔

اسلام ہمیں زبان کی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے۔

اس لیے اگر کوئی عوامی شخصیت کسی افسوس ناک واقعے کے بعد جذباتی انداز میں کوئی نامناسب جملہ کہہ دے تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ:

غلط جملے کی نشاندہی کی جائے، قرآن و سنت کی روشنی پیش کی جائے، اور اگر ضرورت ہو تو وضاحت یا اصلاح کا موقع دیا جائے۔

ذاتی گالم گلوچ، تضحیک اور کردار کشی اسلامی اصلاح کا بہترین طریقہ نہیں۔


کسی شخص کی نیت کا فیصلہ کرنے میں احتیاط ضروری ہے

یہ بات بھی بہت اہم ہے۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں:

”بیٹی کے بارے میں یہ الفاظ اسلامی تعلیمات کے مطابق درست نہیں۔“

لیکن ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ صرف ایک جملے کی بنیاد پر کسی شخص کے ایمان، نیت یا آخرت کا فیصلہ کرنے لگیں۔

ممکن ہے کہ کسی شخص نے انتہائی جذباتی کیفیت میں بات کی ہو اور اس کا اصل مقصد بیٹی کی پیدائش کو برا کہنا نہ ہو بلکہ معاشرتی حالات پر شدید خوف کا اظہار ہو۔

اس لیے اسلامی طریقہ یہ ہے:

غلط بات کو غلط کہا جائے، لیکن نیت کا فیصلہ بغیر علم کے نہ کیا جائے۔


اسلام میں بیٹی کی پیدائش پر درست رویہ کیا ہونا چاہیے؟

ایک مسلمان کا رویہ یہ ہونا چاہیے:

اگر اللہ تعالیٰ بیٹی عطا فرمائے تو الحمدللہ۔

اگر بیٹا عطا فرمائے تو الحمدللہ۔

اگر دونوں عطا فرمائے تو الحمدللہ۔

اولاد کی جنس اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ جو اولاد اللہ نے دی ہے، اس کے حقوق ادا کریں اور اسے نیک، بااخلاق اور ذمہ دار انسان بنانے کی کوشش کریں۔


بیٹی کو بوجھ نہیں، امانت سمجھیں

بیٹی کی پرورش میں اخراجات ہو سکتے ہیں۔

تعلیم کے اخراجات ہوتے ہیں۔

صحت کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔

حفاظت کی فکر ہوتی ہے۔

شادی کے معاملات آتے ہیں۔

تربیت میں وقت لگتا ہے۔

لیکن یہی تو والدین کی ذمہ داری ہے۔

دنیا کی ہر قیمتی چیز ذمہ داری کے ساتھ آتی ہے۔

اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے:

”بیٹی ذمہ داری ہے، لیکن یہی ذمہ داری اجر کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔“


قرآن و حدیث سے ملنے والا بنیادی سبق

قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بیٹیاں اور بیٹے عطا فرماتے ہیں۔

سورۃ الشوریٰ 42:49

قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ بیٹی کی پیدائش پر افسوس اور اسے باعثِ ذلت سمجھنا جاہلیت کی سوچ تھی۔

سورۃ النحل 16:58–59

اور رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کے ساتھ حسنِ سلوک، صبر، کفالت اور اچھی پرورش پر عظیم اجر کی بشارت دی۔

صحیح مسلم 2631، جامع الترمذی 1913 اور 1916

لہٰذا اسلام کا پیغام واضح ہے:

بیٹی کی پیدائش شرمندگی نہیں۔

بیٹی کی پیدائش منحوسی نہیں۔

بیٹی کی پیدائش کوئی گناہ نہیں۔

بیٹی کو بوجھ سمجھنا اسلامی مزاج نہیں۔

بلکہ بیٹی کی صحیح تربیت اور اس کے حقوق ادا کرنا والدین کے لیے اجر اور جنت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔


آخری اور اہم اسلامی پیغام

مینارِ پاکستان جیسے واقعے کے بعد ایک باپ کا اپنی بیٹی کے مستقبل اور حفاظت کے بارے میں پریشان ہونا فطری ہے۔

لیکن اس پریشانی کا درست اسلامی جواب یہ نہیں کہ:

”اللہ کا شکر ہے کہ میری بیٹی نہیں ہے۔“

بلکہ ایک مسلمان کو یہ سوچنا چاہیے:

”یا اللہ! اگر تو نے مجھے بیٹی عطا کی ہے تو مجھے اس کے حقوق ادا کرنے، اس کی حفاظت کرنے، اسے دین و دنیا کی اچھی تعلیم دینے اور اسے نیک اور باعزت زندگی دینے کی توفیق عطا فرما۔“

یہی عملی اسلامی سوچ ہے۔

ہمیں بیٹیوں سے خوف پیدا کرنے کے بجائے ایسا معاشرہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں بیٹیاں محفوظ ہوں، ان کی عزت کی جائے، بیٹوں کی اخلاقی تربیت ہو، ظلم کے خلاف قانون اور معاشرہ مؤثر کردار ادا کرے اور ہر شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔

بیٹی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے؛ اصل امتحان بیٹی کا وجود نہیں بلکہ والدین کا اس امانت کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔

مستند حوالہ جات

  • القرآن، سورۃ النحل، 16:58–59 — بیٹی کی پیدائش کو باعثِ ذلت سمجھنے والی جاہلی سوچ کی مذمت۔

  • القرآن، سورۃ الشوریٰ، 42:49 — اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بیٹیاں اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا فرماتا ہے۔

  • صحیح مسلم، حدیث 2631 — دو بیٹیوں کی پرورش کرنے والے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی قربت کی بشارت۔

  • جامع الترمذی، حدیث 1913 — بیٹیوں کے ساتھ صبر کرنے کے اجر کا بیان۔

  • جامع الترمذی، حدیث 1916 — دو یا تین بیٹیوں یا بہنوں کے ساتھ حسنِ سلوک پر جنت کی بشارت۔

اہم وضاحت

اس مضمون کا مقصد کسی فرد کی تضحیک یا کردار کشی نہیں بلکہ بیٹی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی وضاحت ہے۔ کسی مخصوص شخص کے الفاظ کی شرعی حیثیت، اس کی نیت، یا اس پر کوئی انتہائی شرعی حکم لگانے کے لیے مستند اور اہل مفتی سے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ رجوع کرنا چاہیے۔

 

Facebook Video | Mufti Tariq Masood Sahab Reaction


Comments

Popular posts from this blog

Periods / Haiz Ke Kitne Din Baad Humbistari Karna Chahiye - Haiz Ke Masail In Islam In Urdu

Roze Mein Namak Chakhna Kaisa Hai | Kya Namak Chakhnay Se Roza Toot Jata Hai

Kya Biwi Ko Peeche Se Karna Jaiz Hai? - Humbistari Ke Masail - Sawal Jawab (Questions And Answers In Urdu Language)

Contact Us

Name

Email *

Message *

Copyright © 2026 IlamOne TV All Rights Reserved.